خدا ؔ کے اپنے کاموں سے بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی ہتک عزت نہیں ہوتی۔ سو ایسا ہی دوسری خودبخود ہونے والی چیزوں سے اس کی کوئی ہتک عزت نہیں۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اس جواب کو ہمارے اعتراض سے کیا تعلق ہے۔ یہ بات نہایت ظاہر و بدیہی ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات اس کے کاموں سے جو اس کی مخلوقات ہے بڑھ کر نہ ہوتی تو مخلوق اپنے خالق سے اور مملوک اپنے مالک سے مساوی ہوجاتا تو اس طرح پر ضرور خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت ہوتی کیونکہ مخلوق کو اپنے خالق سے برابر ہوجانا اور مملوک کا اپنے مالک سے ہم درجہ ہونا صریح موجب ہتک عزت مالک ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے جیسا خدا پیدا نہیں کرتا کہ یہ اس کی عزت ابدی و جلال ازلی اور وحدت قدیمی کے برخلاف ہے اب جب کہ یہ ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت اس بات میں ہے کہ کوئی مخلوق و مملوک ہوکر اس کی ذات و صفات کے برابر ہو تو ظاہر ہے کہ جو امر اس کا نقیض ہے یعنی یہ کہ مخلوق اپنی ذات و صفات میں اپنے خالق سے کم ہو یہ امر موجب تشبّہؔ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَاذْکُرُوْا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًاؕ یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہوجاتا ہے جب محبت میں غائت درجہ شدت واقع ہوجاتی ہے اور ُ حب جو ہریک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہوجاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے