عؔ ہوتے ہیں۔
قولہ۔ خدائے تعالیٰ جو خود بخود ہونے والی چیز ہے خدا کے اپنے کاموں سے بہت بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی ہتک نہیں ہوتی۔
اقول۔ بجز اس کے کیا کہوں کہ۔ بریں عقل و دانش ہزار آفرین۔ ہماری طرف سے تو اعتراض یہ تھا کہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان اصل پیدائشِ اشیاء خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ جمیع اشیاء مادی و غیر مادی معہ تمام خواص و عجائبات اپنے کے خودبخود ہیں تو اس میں پرمیشر کی بڑی ہتک عزت ہے یعنی یہ امر اس کی بزرگی اور جلال اور حیثیت خدائی کے کسر شان کرتا ہے کہ جو چیزیں اس کے زیر حکم اور ماتحت ہیں وہ سب اپنے وجود اور اپنے جمیع خواص میں جو اعلیٰ درجہ کے عجائبات قدرت سے بھرے ہوئے ہیں خودبخود ہوں اور جو ادنیٰ درجہ کا کام ہے جو پہلے کام کے سہارے سے چلتا ہے فقط وہی کام پرمیشر کے ہاتھ سے نکلا ہو اس کا جواب ماسٹر صاحب یہ دیتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ جو خودبخود ہونے والی چیز ہے
رہتی ہے اور جیسی اللہ جل شانہٗ کو اپنی خوبی اور عظمت محبوب بالطبع ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اس کے لئے محبوب بالطبع ہوجاتا ہے اور اپنے مخدوم حقیقی کی ہر ایک عادت و سیرت اس کی نظر میں ایسی پیاری ہوجاتی ہے کہ جیسی خود اس کو پیاری ہے۔ سو یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ جن کے سینے محبت غیر سے بالکل منزہ وصاف ہوجاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کی رضامندی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر ایک وقت جان قربان کرنے کو طیار رہتے ہیں۔ سینہ می باید تہی از غیر یار۔ دل ہمی باید ُ پر از یاد نگار۔ جاں ہمی باید براہ او فدا۔ سرہمی باید بہ پائے اونثار۔ ہیچ دانی چیست دین عاشقاں۔ گویمت گر بشنوی عشاق دار۔ ازہمہ عالم فردیستن نظر۔ لوح دل شستن زغیر دوستدار۔ قرب کی دوسری قسم ولداور والد کی