یہ ؔ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پرمیشر سے زیادہ تر کاریگر پیش نہیں کیا گیا۔ جس نے خالق الارواح والاجسام ہونے کا دعویٰ کیا ہو سو اب اے ماسٹر صاحب آنکھ کھول کر دیکھیں کہ وہ زیادہ تر کاریگر پیش تو کیا گیا اور اسی کی طرف تو ہم آپ کو دعوت کررہے ہیں کہ آؤ فرضی پرمیشر سے زیادہ تر کاریگر اور اس سے زیادہ تر جاننے والا اپنے کامل نشانوں کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے اس زیادہ تر عزت و حکمت و قدرت والے پر ایمان لاؤ جس نے اپنی عام قادریت ظاہر کی ہے جن چیزوں کو آپ لاوارث اور غیر مخلوق سمجھتے تھے ان کا وارث ظاہر ہوگیا ہے سو ادھورے اور وہمی پرمیشر کو چھوڑ دو اور سچے اور کامل اور پورے پورے قادر کی فرمانبرداری اختیار کرو جس کی سچائی اس کی قدرتوں سے ثابت ہورہی ہے۔ آپ لوگوں کا پہلا پرمیشر حقیقت میں پرمیشر نہیں ہے اور جوڑنے جاڑنے کی بھی دراصل اس کو طاقت نہیں ہے بلکہ وہ کچھ بھی نہیں سچا پرمیشر یہی ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے کسی خاص ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہر ایک ملک کے ڈھونڈنے والے اس کو پاتے ہیں سو آؤ دلی صدق سے اس کی طرف رجوع کرو تاتم بھی ان برکات سے حصہ یاب ہوجاؤ جن سے صادق لوگ ہرگزؔ نہیں ڈرتا غرض احمقانہ تقلید سے وہ کوئی کام بھی نہیں کرتا بلکہ سچی اور کامل محبت کی وجہ سے اپنے آقا کا مزاج دان ہوجاتا ہے اور یکرنگی اور اتحاد کی روشنی جو اس کے دل میں ہے وہ ہر ایک تازہ وقت میں تازہ طور پر اس کو سمجھا دیتی ہے جو اس خاص وقت میں کیونکر اور کس طرز سے کوئی کام کرنا چاہیئے جو مخدوم حقیقی کے منشاء کے مطابق ہو اور چونکہ اس کو اپنے منعم حقیقی سے ایک تعلق ذاتی پیدا ہوجاتا ہے اس لئے اطاعت اور فرمانبرداری اس کے سر پر کوئی آزار رساں بوجھ نہیں ہوتا بلکہ وہ فرمانبرداری اس کے ایک امر طبعی کے حکم میں ہوجاتی ہے جو بالطبع مرغوب اور بلا تصنع و تکلف اس سے صادر ہوتی