سامنےؔ آپ کے وہمی پرمیشر کا وجود حقیقت میں معدوم اور بے نشان ہے کیونکہ آپ کا پرمیشر تو بوجہ اپنی کمزوری اور ناطاقتی اور ناداری اور لاچاری کے آریہ دیس میں چھپا ہوا بیٹھا تھا اور انہیں لوگوں سے اپنے کلام کا ٹھیکہ دے رکھا تھا اور باہر قدم رکھنے سے ڈرتا تھا اور اپنے ُ منہ سے قائل تھا کہ میں اپنی ذات سے کچھ نہیں کرسکتا دوسروں کے سہارے سے میرا کام چل رہا ہے سو آریہ لوگ اسی فرضی پرمیشر پر کہ دراصل ایک چور تھا نہ پرمیشر خوش ہورہے تھے اتنے میں آفتاب صداقت ان پر چمکا اور اس سچے کامل خدا کا کلام جس سے آریہ لوگ ناواقف تھے یعنی قرآن شریف آریہ دیس میں جلوہ گر ہوا اور کروڑہا آریوں کو سچائی کی طرف کھینچ لایا سو اس طرح پر اس نے اپنے قادر اور کامل وجود سے ان کو اطلاع دے دی اور اپنی خدائی ا ن پر ظاہر کردی اور اپنے قوی ہاتھ سے اپنا قادر مطلق ہونا ثابت کردیا اور سب روحوں اور مادوں کی نسبت بیان کیا کہ یہ سب میرے ہی پیدا کردہ ہیں سو جن چیزوں کی نسبت آریہ لوگ اور ان کا ناکارہ پرمیشر حیران ہورہے تھے کہ یہ چیزیں کس نے پیدا کی ہیں پیدا کرنے والے نے اپنا کلام ان تک پہنچا کر اور اپنے روشن نشان دکھلا کر
باتوںؔ سے متنفر ہوجاتا ہے جو اس کے مخدوم کو بری معلوم ہوتی ہیں وہ نافرمانی کو اس جہت سے نہیں چھوڑتا کہ اس پر سزا مترتب ہوگی اور تعمیل حکم اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس سے انعام ملے گا اور کوئی قول یا فعل اس کا اپنے اخلاق کاملہ کے تقاضا سے صادر نہیں ہوتا بلکہ محض اپنے مخدوم حقیقی کی اطاعت کی وجہ سے جو اس کی سرشت میں رَچ گئی ہے صادر ہوتا ہے اور بے اختیار اسی کی طرف اور اس کی مرضیات کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال کا پھیرنا خواہ نخواہ واجب نہیں جانتا اور نہ طمانچہ کی جگہ طمانچہ مارنا اس کو لا بدًّا ضروری معلوم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے یک رنگ دل سے فتویٰ پوچھتا ہے جو اس وقت خاص میں