کسیؔ کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ خواہ نخواہ اس کے لئے تکلیفیں اٹھاوے۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ہتک ایک ایسا لفظ ہے جس کا اثر اس کے دل پر ضرور ہوتا ہے جس کو کچھ شرم و غیرت بھی ہو سو اگر آپ کے پرمیشر میں کچھ شرم اور غیرت ہوتی تو اس سے زیادہ ہتک ہونے کی اور کیا بات تھی کہ جن کاموں کے کرنے پر وہ فخر کرتا ہے اور اپنے پرمیشر ہونے کی انہیں دلیل ٹھہراتا ہے یعنی جوڑنا جاڑنا ان کاموں کی نسبت دوسرے کام جو خودبخود بغیر دست اندازی پرمیشر کے تسلیم کئے گئے ہیں ایسے اعلیٰ درجہ کے نکلے کہ پرمیشر کے کاموں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں پس اس صورت میں اگر پرمیشر کی ہتک نہیں ہوتی تو کیا اس سے عزت ہوگئی اور اگر یہ باتیں پرمیشر کی کسر شان کا موجب نہیں ہیں تو کیا اس کی عظمت اور جلال ظاہر ہونے کا باعث ہے سوچنا چاہیئے کہ جس حالت میں تمام عجیب کام اور بے نظیر قدرتیں اور رنگا رنگ کے خواص خودبخود ہوئے تو کیا مجرد جوڑنے جاڑنے سے ایک بڑا درجہ پرمیشر ہونے کا ایسے ضعیف اور کمزور کو مل سکتا ہے بلکہ اگر غور کرو اور کچھ خداداد عقل کو کام میں لاؤ تو تمہیں معلوم ہوگا کہ جوڑنا جاڑنا درحقیقت ارواح اور اجسام کے پیدا کرنے کی فرع ہے یعنی جوڑنا جاڑنا بھی اسی قادر مطلق کے ہاتھ سے
تفصیلؔ سے مراتب ثلاثہ قرب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اوّل قسم قرب کی خادم اور مخدوم کے تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِؕ
یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرماں بردار کہہ سکتے ہیں سب چیزوں سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر بااخلاص و باصفا باوفا بوجہ مشاہدہ احسانات متواترہ و انعامات متکاثرہ و کمالات ذاتیہ اپنے آقا کی اس قدر محبت و اخلاص ویک رنگی میں ترقی کرجاتا ہے جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں