قولہ۔ او نہیںؔ نکالیں بلاشبہ نکالی ہیں اور اب تک ہریک پیشہ اور کارخانہ کے متعلق ہزارہا جدید صنعتیں نکالتے جاتے ہیں سو اگر ہندوؤں کے پرمیشر کا بھی اتنا ہی کام ہے کہ علم خواص اشیاء حاصل کرکے طرح طرح کی صنعتیں بمنصہ ظہور لاوے تو پھر ان لوگوں اور ایسے پرمیشر میں صرف کمی بیشی علم کا فرق ہوگا اگر ان لوگوں کو وہ اعلیٰ قسم کا علم معلوم ہو جائے تو یہ بھی ایک طور کے پرمیشر بن جائیں گے۔ ر یہ جو کہا جاتا ہے کہ خودبخود ہونے والا کام پرمیشر کے کاموں سے بڑھ کر ہے تو اگر ایسا ہوا تو پرمیشر کی اس میں کون سی ہتک ہوئی۔ اقول۔ سچ ہے آپ کے پرمیشر کی عزت بڑی پکی ہے کسی قسم کی ہتک سے دور نہیں ہوسکتی۔ یہ ہمیں آج ہی معلوم ہوا کہ آپ کا پرمیشر اس قسم کی درویشانہ سیرت رکھتا ہے کہ اگرچہ کروڑہا چیزیں اس کے کاموں اور صنعتوں سے بڑھ چڑھ کر ہوں تب بھی اس کو اپنی کسرِ شان کی کچھ پرواہ نہیں یہ خوب پرمیشر ہے اور آپ لوگوں کا وید بھی خوب اور وید ودیا اور اس کا گیان بھی جس پر اتنا ناز تھا خوب ہی نکلا ہزارہاتھ کنواں کھودا آخر چشمہ آب کی جگہ ایک مری ہوئی مینڈک نکلی اگر پرمیشر اسی حیثیت اور کرتوت کا مالک ہے تو پھر میں حاصل تھا وہ عالم مثال میں مشہود و محسوس طور پر دکھایا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کریم کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے مقربین کے تین قسموں سے اعلیٰ و اکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔ جاننا چاہئے کہ قرب الٰہی کی تین قسمیں تین قسم کی تشبیہ پر موقوف ہیں جن کی