انجاؔ م پذیر ہوسکتا ہے جو عدم سے وجود بخشنے پر قادر ہو اور اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کرلیں کہ ایک ایسے کمزور اور نکمے کے ہاتھ سے جوڑنا جاڑنا ممکن ہے جس نے نہ کسی روح کو پیدا کیا اور نہ کسی مادہ کو اور نہ وہ صدہا خواص اور طاقتیں اور استعدادیں جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں اس کی پیدا کردہ ہیں تو پھر مجرد جوڑنا جاڑنا اس کو قابل تعریف بنا نہیں سکتا بلکہ یہ سب تعریفیں روحوں اور ذرّات اجسام کی طرف عائد ہوں گی۔ اور اس صورت میں پرمیشر پر لازم و واجب ہوگا کہ روحوں اور مادوں کا شکرگزار اور ثناخواں ہو جنہوں نے مفت میں اس کو نیک نامی دلائی۔ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نانو۔ قولہ۔ پرمیشر کی اس صورت میں ہتک ہوئی کہ جب اس سے زیادہ تر کاریگر پیش کیا جاتا۔ اقول۔ لو صاحب اب تو آپ کے پرمیشر کی آپ ہی کے منہ سے ہتک ثابت ہوگئی کیونکہ آپ کے خیالی اور وہمی اور فرضی پرمیشر سے اور زیادہ ترکاریگر نکل آیا جس کے وجود کے پیدا ؔ ہوجاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت وہم طریق ہوجاتا ہے اور اس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہے اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق و صفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بکلی محو وفنا ہوکر اپنے مولیٰ کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔ آنجا کہ محبتے نمک میریزد ہر پردہ کہ بود از میان برخیزد ایں نفس دنی کہ صد ہزارش دہن است خاموش شود چو عشق شور انگیزد چوں رنگ خودی رود کسی را از عشق یارش زِ کرم برنگ خویش آمیزد سو ایسا خادم جو ہم رنگ اور ہم طبیعت مخدوم ہورہا ہے طبعی طور پر اُن سب