بعدؔ میں کہاں سے آگیا دنیا میں صدہا صورتیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ اول دو چیزوں میں کوئی خاصیت چھپی ہوئی موجود ہوتی ہے اور پھر ان دو چیزوں کے باہم ملا دینے سے وہی خاصیت بڑی تیزی اور شوخی سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ دو دواؤں کی ترکیب سے ایک نئے مزاج اور خاصہ کی دو انکل آتی ہے مگر درحقیقت وہ مزاج اور خاصہ کچھ نیا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں دواؤں میں الگ الگ طور پر مخفی ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی دو رنگوں کے ملانے سے ایک نیا رنگ نکل آتا ہے مگر وہ درحقیقت نیا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں رنگوں میں اس حالت علیحدگی میں چھپا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی دو مختلف مزہ کے طعام کو ملا کر تیسرا مزہ جو نیا دکھائی دیتا ہے نکل آتا ہے مگر وہ بھی درحقیقت نیا نہیں ہوتا۔ سو میں کہتا ہوں کہ اگر انہیں اجزاءِ متفرقہ و خواص متفرقہ کو ملا کر کوئی مشترک خاصہ پیدا کرنا جو حقیقت میں پہلے ہی مخفی تھا پرمیشر ہونے کی نشانی ہے تو پھر آریہ لوگ انگریزوں اور دوسرے یورپ کے صناع لوگوں کو کیوں سجدہ نہیں کرتے اور ان کو اپنا ایشر کیوں نہیں سمجھتے کیا ان لوگوں کے کام ایسے پرمیشر کے مشابہ نہیں ہیں۔ کیا ان لوگوں نے بھی ہندوؤں کے پرمیشر کی طرح خواص متفرقہ اشیاءِ عالم پر اطلاع پاکر صدہا صنعتیں
اور ؔ ظلّی طور پر ان سب کمالات خباثت کو حاصل کرلیتا ہے جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں اسی طرح اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے چلے جاتے ہیں اور وجود خیر مجسم جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقع ہے یعنی حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقام عروج (یعنی عرش ربّ العالمین ہے) بتلایا گیا ہے یہ درحقیقت اسی انتہائی درجہ کمال ارتفاع کی طرف اشارہ ہے جو اُس وجود باجود کو حاصل ہے گویا جو کچھ اس وجود خیر مجسم کو عالم قضاء وقدر