کہؔ آئینہ تصویر میں کوئی نقش بڑھا کر دکھا دیتا ہے بلکہ نقوش تو وہی ہوتے ہیں جو ہیں ہاں البتہ آئینہ میں وہ سب نقوش صاف طور پر نظر آجاتے ہیں ایسا ہی جو خواص ارواح میں ہیں ان کا آئینہ جسم اور جسمی شکلیں ہیں اور جو خواص ذرّات اجسام میں ہیں ان کا آئینہ ترکیب جسمی اور وہ روحیں ہیں جو ان کے ساتھ تعلق پکڑتی ہیں اور درحقیقت ان چیزوں کا باہم آئینہ کا کام دینا یہ بھی ایک فطرتی خاصہ ہے اور اگر خدائے تعالیٰ ارواح اور ذرات اور اجسام کا خالق نہیں تو اس کو اس خاصہ کے پیدا کرنے میں ذرا دخل نہیں کیونکہ خواص اشیاء کے تو خواہ نخواہ اپنے موقع پر ظہور میں آجاتے ہیں اور درحقیقت یہ خاصہ بھی انہیں خواص ارواح و اجسام میں سے ہے جن کو آریہ لوگ غیر مخلوق اور انادی کہتے ہیں۔ لیکن اب ماسٹر صاحب اپنے پرمیشر کی پردہ پوشی کے لئے اس پر یہ احسان کرنا چاہتے ہیں کہ تا اس خاصہ کی پیدائش اس کی طرف منسوب کی جائے سو یہ کسی طرح منسوب نہیں ہوسکتی پنڈت دیانند صاحب اپنے وید بھاش اور ستیارتھ پرکاش میں صاف اقرار کرچکے ہیں کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی جو ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں وہ پیچھے سے کبھی نہیں ہوسکتا۔ سو اگر یہ خاصہ پہلے الگ الگ دو چیزوں میں مخفی طور پر موجود نہیں تھا تو پھر
پیدا کرتا ہے اسی قدر وہ ایمانی قوت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے یاں تک کہ وہ اُسی کے رنگ میں آجاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالات کو پالیتا ہے جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شر انگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذوالعقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقع ہے اس کا اثر ہریک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سوجھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت تام ہوجاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہوجاتا ہے