نہیںؔ ہوسکتی مگر افسوس کہ اس ابدی تعلق جسم و روح کو وید نہیں مانتا اور صرف روح کو جس میں بقول ماسٹر صاحب بجز تعلق جسم کوئی روحی خاصہ نمایاں طور پر جلوہ پذیر نہیں ہوسکتا لذات کاملہ نجات ووصال الٰہی کے اٹھانے کے لئے کافی سمجھتا ہے۔ حالانکہ ابھی بیچارہ ماسٹر صاحب اقرار کرچکا ہے کہ روحانی صفات بجز تعلق موجودہ جسم کے کسی قسم کی کمالیت ظاہر نہیں کرسکتیں اب وید کو کون سمجھا وے اور دیانند کی روح تک اس خبر کو کون پہنچاوے تا وہ ماسٹر صاحب سے سبق لے کر اپنے وید بھاش کی غلطیوں کو درست کردیں۔
میں نے پہلے سے اسی رسالہ میں درج کردیا ہے کہ جو جو صفات خداوندکریم جل شانہٗ نے ارواح میں رکھے ہیں یا جو جو خاصیتیں ذرّات اجسام میں مودع کی ہیں وہ اگرچہ بجائے خود الگ الگ بھی ثابت و متحقق ہیں مگر ان کا ظہور بین اس وقت ہوتا ہے اور ان کے فوائد اس وقت بطور اتم و اکمل کھلتے ہیں جس وقت جسم اور روح کا باہم تعلق ہوتا ہے اس کی مثال بھی اسی پہلے موقع میں َ میں نے یہ دی تھی کہ جیسے تصویر کو آئینہ میں رکھنے میں تصویر کا رنگ و روپ زیادہ تر نظر آجاتا ہے یہ بات ہرگز نہیں ہے
عقلیؔ طور پر ضرور ماننا پڑتا ہے کہ جیسے سلسلہ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ایک وجود خیر مجسم ہے جو دنیا میں خیر کی طرف ہادی ہوکر آیا اسی طرح اس کے مقابل پر ذوالعقول میں انتہائی نقطہ انخفاض میں ایک وجود شر انگیز بھی جو شر کی طرف جاذب ہو ضرور چاہیئے اسی وجہ سے ہریک انسان کے دل میں باطنی طور پر بھی دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے پاک وجود جو روح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پاک اثر بجذباتِ قدسیہ و توجہات باطنیہ ہر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔ جس قدر کوئی اُس سے محبت اورؔ مناسبت