انؔ کا عدم و وجود برابر ہے اس بیان میں ماسٹر صاحب نے بڑا دھوکا کھایا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ جو کچھ روحوں اور جسموں کے ملنے کے بعد روحانی اور جسمانی خاصیتیں وجود انسان میں چمکتی ہیں وہ گویا ان کے پرمیشر کی کاری گری سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حالانکہ یہ خیال بالکل غلط اور نامعقول ہے جو موٹی سمجھ سے پیدا ہوا ہے بلکہ اصل بات تو وہی ہے جس کو ہم پہلے تحریر کرچکے ہیں کہ جو مخفی طور پر روحوں اور جسموں میں الگ الگ خواص پائے جاتے ہیں وہی باہم ترکیب اور امتزاج سے نمایاں ہوجاتے ہیں اور حالت تعلق جسم و روح تک قائم رہتی ہے۔ یہ بات فی الحقیقت سچ اور راست راست ہے جس کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں کہ جو خواص بعد ترکیب اور تعلق ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ سب خواص نہ مجرد اجسام سے کھلے کھلے طور پر مترتب ہوسکتے ہیں نہ مجرد ارواح سے بلکہ ان کا ظہور و بروز کامل طور پر اجسام اور ارواح کے باہمی تعلق پر موقوف ہوتا ہے اور اسی وجہ سے میں اس رسالہ میں اس سے پہلے تحریر کر آیا ہوں کہ ارواح کو اپنی سعادت تامہ تک پہنچنے کے لئے عالمِ آخرت میں کوئی ابدی جسم ملنا ضروری ہے تا اس تعلق جسم کی وجہ سے وہ خواص کامل طور پر ظاہر ہوجائیں کہ جو مجرد روحوں میں بدیں صفائی و کمال ظاہر
چونکہؔ اس مطلب کو کچھ زیادہ تفصیل سے لکھنا موجب افادہ طالبین ہے اس لئے ہم کسی قدر اور تحریر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
اوّل ہم بیان کرچکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ خط خالقیت میں انتہائی نقطہ ارتفاع پر واقعہ ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور ان کے مقابل پر وہ خسیس وجود جو انتہائی نقطہ انخفاض پر واقعہ ہے اسی کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں اگرچہ بظاہر شیطان کا وجود مشہود و محسوس نہیں لیکن اس سلسلہ خط خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو