۳۔ ؔ علوم حاصل کردہ کے محفوظ رکھنے کی ایک قوت۔
۴۔ محبت الٰہی کی ایک قوت۔
۵۔ لذت وصال الٰہی اٹھانے کی ایک قوت۔
۶۔ مکاشفات کی ایک قوت۔
۷۔ مؤثر اور متأثر ہونے کی یا یوں کہو کہ باہم عامل اور معمول ہونے کی ایک قوت۔
۸۔ تعلق اجسام قبول کرنے کی ایک قوت۔
۹۔ تخلق باخلاق اللہ کی ایک قوت۔
۱۰۔ مورد الہام الٰہی ہونے کی ایک قوت۔
۱۱۔ بسطی و قبضی حالت پیدا ہونے کی ایک قوت۔
۱۲۔ معارف غیر متناہیہ کے قبول کرنے کی ایک قوت۔
۱۳۔ رنگین برنگ تجلی الوہیت ہونے کی ایک قوت۔
۱۴۔ عقلی قوت جس سے امتیاز حسن و قبح ان پر ظاہر ہوتا ہے۔
۱۵۔ القائے اثر و قبول اثر کی ایک قوت بمقابلہ اپنے اجسام متعلقہ کے۔
خداؔ ئے تعالیٰ نے پیش از ظہور بلکہ ہزارہا برس پہلے اس انسان کامل کا پتہ و نشان بیان کردیا ہے پس جس شخص کے دل کو خدائے تعالیٰ اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدایت دے گا کہ وہ الہام اور وحی پر ایمان لاوے اور ان پیش گوئیوں پر غور کرے کہ بائبل میں درج ہیں تو اسے ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ انسان کامل جو آفتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اب بھی مکرر ظاہر کرتے ہیں کہ انسان کامل