اتصالیؔ قوت نہ پائی جائے جس کو قوت کشش اتصال کہتے ہیں تو ہندوؤں کے پرمیشر کو ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ کم سے کم دو ذرّوں میں بھی پیوند کرکے دکھلاوے اسی طرح جو جوڑنے جاڑنے میں روحانی خواص نمایاں ہوتے ہیں ان میں بھی ہندوؤں کے پرمیشر کی ہرگز مجال نہیں ہے کہ بغیر حمایت و مدد روحوں اور ان کی عجیب خاصیتوں اور صفتوں کے جن کو ماسٹر صاحب بیج کی طرح خیال کرتے ہیں کوئی صنعت بناکر دکھلا سکے۔ یہ بات تو نہایت درجہ پر ظاہر ہے کہ ایسے پرمیشر کی جس نے نہ روحوں اور نہ ان کے خواص کو پیدا کیا اور نہ ذرّاتِ اجسام اور ان کی خاصیتوں کو خلعت وجود بخشا صرف جوڑنے جاڑنے میں کچھ بھی ہنگ پھٹکری خرچ نہیں آتی بلکہ خواص پہلے ہی جدا جدا چیزوں میں کچھ پوشیدہ تھے وہ باہم روح اور جسم کے ملنے سے خودبخود نمایاں طور پر نظر آجاتے ہیں کیونکہ ان میں پہلے ہی سے یہ خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے کہ باہم ملنے سے خواہ نخواہ ان کا ظہور ہوجاتا ہے جیسے دنیا کی لاکھوں چیزوں میں یہی خاصہ پایا جاتا ہے کہ ان کے باہمی امتزاج اور اختلاط سے ایک عجیب قسم کا خاصہ پیدا ہوجاتا ہے کہ جو الگ الگ ہونے کی حالت میں مخفی و محجوب ہوتا ہے۔ سو یہ بات ہرگز نہیں کہ جو شخص ان دو چیزوں کو باہم ملاتا ہے وہ اپنے گھر سے ایک خاصہ لاکر ان میں ڈال دیتا ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے وہ دونوں چیزیں الگ الگ طور پر وہ خاصہ اپنے اندر رکھتی ہیں جو ان کے اکٹھے ہوجانے وحدتؔ اسے محبوب بھی ہے تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی ماننا پڑا کہ جیسے خدائے تعالیٰ نے جمادی سلسلہ میں ایک ذرّہ سے لے کر اس وجود اعظم تک یعنی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے جو ظاہری کمالات کا جامع ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی جسم جمادی نہیں ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ہوگا جس کا وجود خط مستقیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقع ہو اب