بالکلؔ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اقول۔ میں کہتا ہوں کہ جو خاصیتیں اور قوتیں باقرار ماسٹر صاحب روحوں میں ضرور موجود ہیں گو بزعم ان کے بیج کی طرح ہی سہی مگر وہ موجود ہوکر معدوم کے برابر کیوں ہیں اس کی وجہ بھی تو کوئی بیان کی ہوتی کیا وہ قوتیں اور خاصیتیں روحوں میں بے فائدہ طور پر ہیں جن کے وجود سے پرمیشر کو جوڑنے جاڑنے کے وقت کچھ مدد نہیں ملی۔ ظاہر ہے کہ پرمیشر کو ان خاصیتوں اور عجیب قوتوں سے جوڑنے جاڑنے کے وقت بڑی بھاری مدد ملی جس نے پرمیشر کا نام رکھ لیا اور اس کا پرمیشر َ پن ثابت کر دکھایا اور اگر وہ خاصیتیں روحوں میں نہ ہوتیں تو بتلاؤ کہ پرمیشر کر کیاسکتا تھا کون سی روحانی خاصیت اپنے گھر سے لاتا اور کیونکر ایک بے جان جسم کو ایک زندہ انسان بنا کر دکھلاتا بھلا ننگی نہاتی کیا اور نچوڑتی کیا۔ یہ تو روحوں کا اس پر سراسر احسان ہے جو بنے بنائے اور گھڑے گھڑائے معہ تمام اپنی عجیب خاصیتوں اور قوتوں کے اس کے ہاتھ آگئے قسمت اچھی تھی مفت کا نام ہوگیا پرمیشر بن بیٹھا ورنہ غور کرنے والی عقلوں پر ظاہر ہے کہ جوڑنا جاڑنا بغیر ان عجیب خواص اور طاقتوں کے جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں کچھ چیز نہیں ہیں بلکہ اگر وہ خواص روحوں اور مادوں میں پائے نہ جاویں تو ممکن ہی نہیں کہ ہندوؤں کے پرمیشر سے جوڑنے جاڑنے کا کام بھی انجام پذیر ہوسکے مثلاً اگر جسموں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک اب ؔ جب کہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پاکر بلکہ بہ بداہت دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے اس قانون قدرت کو مان لیا کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں جن میں یوں ہی گڑبڑ پڑا ہو بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے باقاعدہ سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں جو ایک ادنیٰ درجہ سے شروع ہوکر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے اور یہی طریق