سےؔ وہ ظاہر ہوجاتا ہے مثلاً گھی اور شہد اور سوہاگہ میں یہ خاصیت ہے کہ ان تینوں کے ملانے سے یہ خاصہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر کسی کشتہ زَر یا ُ نقرہ وغیرہ کو جو بالکل خاکستر و خاک ہوگیا ہو اس میں رکھ کر بوتہ میں آگ دی جائے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے یعنی اپنی اصلی صورت سونا چاندی یا جو کچھ ہو قبول کرلیتا ہے پس یہ خاصیت جو ان تینوں جزوں کی ترکیب سے کشتہ کے زندہ کرنے کے لئے پیدا ہوجاتی ہے یہ ایسی خاصیت ہے کہ خواہ ہندوؤں کا پرمیشر ان تینوں چیزوں کو باہم ملاوے اور خواہ ایک دس برس کا بچہ ان کو باہم مخلوط کرے دونوں کے ہاتھوں سے یہ خاصیت پیدا ہوگی یہ نہیں کہ ضرور پرمیشر کے ہاتھ سے ہی پیدا ہو اور دوسرے کسی شخص کے ہاتھ سے پیدا نہ ہوسکے۔ روحوں میں بہت سے خواص اور عجیب طاقتیں اور استعدادیں پائی جاتی ہیں جن کو قرآن شریف نے استیفا سے ذکر کیا ہے مثلاً ان میں چند قوتیں اور استعدادیں یہ ہیں جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔
۱۔ علوم اور معارف کی طرف شائق ہونے کی ایک قوت۔
۲۔ علوم کو حاصل کرنے کی ایک قوت۔
تفتیشؔ اس بات کی کہ وہ انسان کامل جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے وہ کون ہے اور اس کا کیا نام ہے یہ ایسا کام نہیں ہے جس کا تصفیہ مجرد عقل سے ہوسکے کیونکہ بجز خدائے تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہے اور کون مجرد عقل سے ایسا کام کرسکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کروڑہا اور بے شمار بندوں کو نظرکے سامنے رکھ کر اور ان کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کا موازنہ کرکے سب سے بڑے کو الگ کرکے دکھلاوے بلاشبہ عقلی طور پر کسی کو اس جگہ دم مارنے کی جگہ نہیں ہاں ایسے بلند اور عمیق دریافت کے لئے کتب الہامی ذریعہ ہیں جن میں خود