الہامؔ نہیں پاسکتا تو یہ عجیب اوباشانہ کاروائی ہے بھلا اگر کوئی ان چار رشیوں کی پیروّی سے ان کا رنگ وبوئے حاصل نہیں کرسکتا تو پھر ایک عقلمند ویدوں کے ماننے اور ان پر عمل کرنے میں کیوں ناحق کی ٹکریں مارے یہ کس قسم کی رندانہ حرکت ہے جو ہندوؤں کے پرمیشر سے ظہور میں آئی کہ اول چار رشیوں کو نمونہ کے طور پر بھیجا تا لوگ اس نمونہ کے موافق چل کر ان رشیوں کے ہمرنگ ہوجائیں اور وہی نعمت حاصل کرلیں جو ان کو دی گئی تھی اور پھر دوسری طرف یہ بھی سنا دیا کہ یہ بات ہرگز ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص ان رشیوں کے رنگ میں آکر الہام پانے کا لائق ٹھہرجائے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وید کمال مطلوب تک کسی کو نہیں پہنچا سکتے تو پھر ان کا بھیجا جانا بالکل عبث اور بیہودہ ہوا اور بجز اس بداثر کے کہ کروڑہا آدمیوں کو ان کی ُ پرشرک تعلیم نے مشرک بنادیا اور کون سا نیک ثمرہ ہے جو ان کے آنے سے مترتب ہوا اور وہ چار آدمی جن پر آریوں کے خیال میں وید نازل ہوئے وہ بھی درحقیقت ویدوں کے ممنون احسان نہیں ہوسکتے بلکہ وہ بقول آریہ لوگوں کے کسی پہلے جنم کے اعمال کے باعث الہام پانے کے لائق ٹھہر گئے تھے۔ قولہ۔ رہا باقی دوسری صفات کا ذکر بے شک وہ جیو میں بیج کی طرح موجود ہیں جو بغیر خدائے تعالیٰ کی کاریگریوں کے (جن کا مرزا صاحب جوڑنا جاڑنا نام رکھتے ہیں) کیونکہؔ خدائے تعالیٰ کے کام یک رنگ اور یکساں ہیں اس لئے کہ وہ واحد ہے اور اپنے اصدار افعال میں وحدت کو دوست رکھتا ہے پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پاسکتا اور خود یہ کیا ہی پیارا اور موزوں طریق معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سلک میں منسلک ہوں۔