کےؔ موافق ویدوں پر چلنے سے اپنے وجودوں کو بنالیں تو ایسے رشیوں کے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی یہ بات ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کی کتابیں اور خدائے تعالیٰ کے نبی اسی غرض اور مدعا سے آیا کرتے ہیں کہ تا وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نمونہ کی طرح ہوکر ان کو یہ ترغیب و تحریک دیں کہ جو شخص ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے طریق میں محو ہوجائے وہ آخر انہیں کا روپ ہوجائے گا اور انہیں کے رنگ میں آجائے گا لیکن اگر ہندوؤں کے پرمیشر نے ایسا ارادہ ہی نہیں کیا کہ ان چار رشیوں کے رنگ سے جو نمونہ کے طور پر بھیجے گئے تھے کوئی طالب حق رنگین ہوجائے تو پھر یہ کام ان کے پرمیشر کا سراسر بیہودہ اور فضول ہوگا۔ اس جگہ اس سوال کے کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ اگر ہندوؤں کے پرمیشر نے ویدوں کو تکمیل نفوس ناقصہ کے لئے بھیجا تھا تو ویدوں نے نازل ہوکر کس قدر خلقت کو کمال کے درجہ تک پہنچایا ہے کیونکہ اس بارے میں ہندو لوگ آپ ہی قائل ہیں کہ کسی شخص کو ویدوں نے مرتبہ کمال تک نہیں پہنچایا۔ ظاہر ہے کہ کیفیت و حقیقت کمال کی ہندوؤں کے پرمیشر کے نزدیک بھی وہی ہے جس کا نمونہ اس نے ویدوں کے رشیوں میں قائم کیا تھا اور وہ یہی ہے کہ بزعم آریہ لوگوں کے ان رشیوں کو الہام الٰہی سے سرفراز فرمایا گیا اب جب کہ کمال معرفت کی حقیقت یہ ٹھہری اور دوسری طرف ان کے پرمیشر نے یہ بھی صاف صاف سنا دیا کہ کوئی شخص ابدالا باد تک بجزچار رشیوں کے
پیدا ؔ کیا ہے کہ طرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی دوسرا ایسا وجود نہیں ہے سو اس سلسلہ کے ارتفاع اور انخفاض پر نظر ڈال کر جو ہروقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے روحانی سلسلہ جو اسی ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ سے ظہور پذیر ہوا ہے خود بلاتامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انخفاض اس میں بھی موجود ہے