اور ؔ درمیان کے حجاب اٹھائے گا تو ضرور اسے پائے گا اور جب واقعی اور سچے اور کامل طور پر پائے گا تو ضرور خدا اس سے ہم کلام ہوگا۔ مگر ویدوں نے انسان کے اس درجہ تک پہنچنے سے انکار کیا ہے اور صرف چار رشیوں تک جو ویدوں کے مصنف ہیں (بقول آریہ سماج والوں کے) اس درجہ کو محدود رکھا ہے یہ ویدوں کی ایسی ہی غلطی ہے جیسے اور بڑی بڑی غلطیوں سے وہ ُ پر ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ سب بنی آدم متحد الفطرت ہیں اور جو بات ایک آدمی کے لئے ممکن ہے وہ سب کے لئے ممکن ہے اور جو قرب و معرفت ایک فرد بشر کے لئے جائز ہے وہ سب کے لئے جائز ہے کیونکہ وہ سب اصل طینت میں ایک ہی جوہر سے ہیں ہاں کمالات میں کمی بیشی ہے مگر جنس کمالات میں سرے سے جواب تو نہیں۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ اس میں تحصیل کمالات انسانی کی ایک ذرّہ بھی استعداد نہ ہو تو وہ خود انسان ہی نہیں ہوسکتا۔ غرض تھوڑے بہت کا تو انسانی استعدادوں میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر انسان ہوکر یکلخت فقدان استعداد نہیں ہوسکتا۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ ہندوؤں کے ایشر کو ویدوں کے اتارنے سے مقصد اور علت غائی کیا ہے اگر یہ مقصد ہے کہ تا لوگ ویدوں کو پڑھ کر اور ان کے ٹھیک ٹھیک پابند ہوکر اپنے کمال مطلوب تک پہنچ جائیں تو پھر اس کمال تک پہنچنے کا راہ کیوں آپ ہی بند کرتا ہے۔ اگر اُن رشیوں کا وجود جن پر وید نازل ہوئے تھے بطور نمونہ کے نہیں تھا کہ تا لوگ اُسی نمونہ قریبؔ قریب ہے اور اگر سلسلہ جمادی کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں تو اس قاعدہ کو اور بھی اس سے تائید پہنچتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے چھوٹے سے چھوٹے جسم سے جو ایک ذرّہ ہے لے کر ایک بڑے سے بڑے جسم تک جو آفتاب ہے اپنی صفت خالقیت کو تمام کیا ہے اور بلاشبہ خدائے تعالیٰ نے اس جمادی سلسلہ میں آفتاب کو ایک ایسا عظیم الشان اور نافع اور ذی برکت وجود