کا ؔ وبال جلد تر اسے درپیش ہے اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو تو اس کو پیشگوئی کا مصداق مت سمجھو لیکن اگر ایسا رنج پیش آیا جو کسی کے خیال گمان میں نہیں تھا تو پھر سمجھنا چاہیئے کہ یہ مصداق پیشگوئی ہے لیکن اگر وہ باز آنے والا ہے تو پھر بھی انجام بخیر ہوگا یا تنبیہ کے بعد راحت پیدا ہوجائے گی۔ اور یہ دعویٰ ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الٰہی پاسکتا ہے کیونکہ اول تو اس پر تجربہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہریک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معرفت الٰہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے ربّ کریم جل شانہٗ سے ہم کلام ہوجائے۔ یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلی پاتی ہیں اور سب شکوک و شبہات دور ہوجاتے ہیں اور اسی درجہ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقۂ معرفت کو پالیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق ضعیف سے کس قدر قرب واقعہ ہے۔ اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کرلے گا کےؔ لحاظ سے ان کو ایک باترتیب سلسلہ میں مرتب کریں تو بلاشبہ اس سے ایک اسی خط مستقیم ممتد محدود کی صورت نکل آئے گی جو اوپر ثبت کیا گیا ہے۔ طرف ارتفاع کے اخیر نکتہ پر اس استعداد کا انسان ہوگا جو اپنی استعداد انسانی میں سب نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انخفاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہوگی جو اپنے غایت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لایعقل کے