شرائط ؔ سے جو اس رسالہ میں اندراج پاچکی ہیں ماسٹر صاحب برا نہ مانیں میں سچ سچ کہتا ہوں بالکل سچ جس میں ذرا مبالغہ کی آمیزش نہیں کہ قرآن شریف نے جس قدر خوبی اور عمدگی اور صفائی اور سچائی سے روحوں کے خواص اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں اور انکے دیگر کوائف عجیبہ بیان کئے ہیں اور پھر ان سب بیانات کا ثبوت دیا ہے وہ ایسا عالی اور باریک اور ُ پرحکمت بیان ہے اور ایسے کامل درجہ کی وہ صداقتیں ہیں کہ اگر وید کے چاروں رشی دوبارہ جنم لے کر بھی دنیا میں آویں اور جہاں تک ممکن ہو خوض اور فکر سے زور لگاویں تب بھی یہ مقام وسعتِ علمی اور یہ معارف عالیہ انہیں میسر نہیں آسکتے اگرچہ فکر کرتے کرتے مرہی جاویں۔ غصہ منانے کی کیا بات ہے اور ناراض ہونے کا کونسا محل۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ آؤ وید اور قرآن کا مقابلہ کرکے دیکھ لیں۔ ان دونوں کتابوں کی طاقت علمی آزمالیں۔ دیکھو ہم محض سچائی کی راہ سے دونوں فریق میں سے اس فریق پر *** کرتے ہیں کہ جو اب حق پوشی کی راہ سے اس بحث سے گریز کرجائے اور اِدھر اُدھر کے بہانوں سے یا بے جاعذروں سے بات کو ٹال دے۔ مگر یاد رہے کہ اس بحث میں کسی دلیل یا دعویٰ میں وید کی شرتی سے باہر نہ جانا ہوگا۔ جیساکہ ہم بھی آیات قرآن شریف سے باہر نہ جائیں گے اور یہ بھی آپ پر لازم ہوگا کہ ہریک شرتی ٹھیک ٹھیک سنسکرت کی زبان میں مگر فارسی خط میں معہ اسکے لفظی اپنی ؔ ذات بے مثل و مانند کا نمونہ پیدا کرتا ہے کہ اپنی ذاتی خوبیاں جن پر اس کا علم محیط ہے عکسی طور پر بعض اپنی مخلوقات میں رکھ دیتا ہے اور کمالات کا انتہائی درجہ جو حقیقی طور پر اس کو حاصل ہے ظلّی طور پر اس مخلوق کو بھی بخش دیتا ہے جیسا کہ اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ بھی ہے وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مراد ہیں