اٹھا ؔ کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو پیش از وقوع دلیپ سنگھ کے ابتلا کی خبر نہیں دی گئی۔ کیا آپ قسم کھا کر بیان کرسکتے ہیں کہ آپ کو جلسہ عام میں یہ نہیں بتلایا گیاکہ وہ فقرہ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء جس میں لکھا ہے کہ ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کی نسبت متوحش خبریں اس سے مراد دلیپ سنگھ ہے ایسا ہی یہ خبر جابجا صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو جو پانچ سو سے کسی قدر زیادہ ہی ہوں گے کئی شہروں میں پیش از وقوع بتلائی گئی تھی اور اشتہارات ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء بھی دور دور ملکوں تک تقسیم کئے گئے تھے پھر آخرکار جیسا کہ پیش از وقوع بیان کیا گیا اور لکھا گیا تھا وہ سب باتیں دلیپ سنگھ کی نسبت پوری ہوگئیں اور یہ پیش گوئی ایسے وقت میں یعنے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء میں لکھی گئی اور شہرت دی گئی کہ جب دلیپ سنگھ کی پنجاب میں بالضرور آجانے کی ایک دھوم مچی ہوئی تھی اور بعض دوست اور بھائی بند اس کی اسی خیالی خوشی میں پیشوائی کے لئے بمبئی تک بھی جاپہنچے تھے۔ سو یہ پیشگوئی کروڑہا شخصوں کے خیالات کے مخالف اور حالات موجودہ کے برعکس کی گئی اور سب نے دیکھ لیا کہ کیسی ٹھیک ٹھیک ظہور میں آئی۔ اب فرمائیے آپ کا یہ کہنا کہ آج تک کوئی پیشگوئی ہم نے نہیں دیکھی جھوٹ ہے یا نہیں۔ اسی طرح صاحب اخبار عام لاہور کی خدمت میں بھی عرض کیا جاتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے اپنے پرچہ ۲۱؍ جولائی ۱۸۸۶ ء میں اس پیشگوئی کے انکار میں لکھا ہے اس کے پڑھنے سے ہمیں ان کے تعصب اور نافہمی پر بہت ہی افسوس آتا ہے وہ
نازکؔ نکات عرفانی سے بیگانہ اور اس کو چہ اسرارِ الوہیت سے ناآشنا محض ہیں وہ تعجب کریں گے کہ کیونکر کروڑہا اور بے شمار مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص کو مرتبہ کاملہ خلافت تامہ حقہ کا جو ظل مرتبہ الوہیت ہے حاصل ہوسکتا ہے سو اگرچہ اس بحث کے طول دینے کا یہ موقع نہیں ہے لیکن تاہم اس قدر بیان کردینا طالب حق کے سمجھانے کے لئے ضروری ہے کہ عادت اللہ یا