حاصل ؔ ہے اور یا کامل طور پر روح کے خواص کی مجھے خبر ہے بلکہ یہ دعویٰ تو سراسر قرآن شریف کے اتارنے والے کو (جو ربّ العٰلمین ہے) پہنچتاہے اور اسی کو زیبا ہے کیونکہ وہ خالق ارواح ہے اور اس کو اپنے پیدا کردہ کی اندرونی حقیقت بخوبی معلوم ہے۔ جس نے پیدا کیا وہی جانے۔ دوسرا کیونکر اس کو پہچانے۔ غیر کو غیر کی خبر کیا ہو۔ نظرِ دور کارگر کیا ہو۔ چونکہ درحقیقت وہ روحوں کا خالق ہے اس لئے اس نے اپنے علم ذاتی اور تعلق خالقیت کی وجہ سے روحوں کی حقیقت اور ان کے خواص اس قدر بیان کئے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی کتاب نہیں کہ اس بارہ میں اس کا مقابلہ کرسکے اور وید تو خود کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ ناظرین انصافاًشہادت دے سکتے ہیں کہ آیا روحوں کے علم سے بے خبر ہونا کس کے مناسب حال ہے کیا فی الحقیقت جیسا کہ میں خیال کرتا ہوں ایسے پرمیشر کے مناسب حال ہے جس نے آپ اقرار کردیا ہے کہ میں روحوں کے بنانے سے عاجز بھیؔ کرسکتا ہے لیکن یہ بات ہرگز صحیح اور ضروری نہیں ہے کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو ان سب باتوں کو بلا لحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کرکے بھی دکھاوے بلکہ وہ اپنی ہر ایک قدرت کے اجرا اور نفاذ میں اپنی صفات کمالیہ کا ضرور لحاظ رکھتا ہے کہ آیا وہ امر جس کو وہ اپنی قدرت سے کرنا چاہتا ہے اس کی صفات کاملہ سے منافی و مبائن تو نہیں مثلاً وہ قادر ہے کہ ایک بڑے پرہیزگار صالح کو دوزخ کی آگ میں جلاوے لیکن اس کے رحم اور عدل اور مجازات کی صفت اس بات کی منافی پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس لئے وہ ایسا کام کبھی نہیں کرتا۔ ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف میں رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تئیں ہلاک کرے۔ کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیات ازلی ابدی کی منافی ہے۔ پس اسی طرح سے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اپنے جیسا خدا