اور ؔ پرمیشر کی ان میں کسی نوع سے مداخلت نہ ہوئی اور روحوں کے پیدا کرنے سے پرمیشر قطعاً عاجز ہوا تو اسی سے دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ جس کو روحوں کے پیدا کرنے کا علم یاد نہیں اس کو روحوں کی نسبت اور دوسرا علم کیا یاد ہوگا۔ ایک چیز کا پیدا کرلینا اور اس چیز کی حقیقت کامل طور پر جان لینا درحقیقت لازم ملزوم پڑا ہوا ہے بلکہ اگر زیادہ تر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ انتہائی درجہ کا کامل علم اور پیدا کرلینا درحقیقت ایک ہی بات ہے۔ اس صداقت سے شائد وہ ابلہ مزاج انکار کرے جو ایک ناقص علم کو کامل سمجھ بیٹھے لیکن ایک دانا جس کا خیال اس باریک دقیقہ تک پہنچ جائے کہ کامل علم کسے کہتے ہیں اور کس حالت میں کسی علم کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ کامل ہے وہ ضرور انشراحِ قلب سے یقین کرلے گا کہ ضرور علم تام اور عمل میں تلازم بلکہ اتحاد واقعہ ہے غرض یہ بات ہندوؤں کے پرمیشر کے لئے بالکل غیرممکن ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ مجھے کامل طور پر علم روح دوسری ؔ چیزوں پر اس کا قیاس نہیں کرسکتے۔ غرض علم ذاتی باری تعالیٰ میں جو اس کی ذات سے متعلق ہے عالم اپنے معلوم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے تا ایک خالق اور ایک مخلوق قرار دیا جاوے ہاں اس کے وجود میں بجائے مخلوق کہنے کے یہ کہنا چاہیئے کہ وہ وجود کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہور پذیر ہے اور خدا ہونے کے بھی یہی معنے ہیں کہ خود آئندہ ہے۔ دوسرا ٹکڑا اعتراض کا کہ تقریر مذکورہ بالا سے خدائے تعالیٰ کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قدرتِ الٰہی صرف ان چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو اس کی صفات ازلیہ ابدیہ کی منافی اور مخالف نہ ہوں بے شک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدائے تعالیٰ کو کامل ہو اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا