اورؔ ان کے طریق پیدا کرنے سے محض بے خبر ہوں یا اس قادر مطلق ربّ العٰلمین کے مناسب حال ہوسکتا ہے جو ذرّہ ذرّہ کے پیدا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور ہریک روح کا وجود اور ہریک جان کی ہستی اپنی قدرتِ کاملہ کا نقش قرار دیتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ سب دانشمند یہی شہادت دیں گے کہ جس کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں اس کو غیر مخلوق چیزوں کی اندرونی حقیقت کا بھی کچھ علم نہیں بلکہ یہ علم کامل اور تام طور پر اسی کامل القدرت کو حاصل ہے جس کو روحوں کے پیدا کرنے کی طاقت و قدرت ہے پس اس بیان سے تو ہندوؤں کے پرمیشر اور ان کے وید کی ساری حقیقت کھل گئی اور جو کچھ وید کے مصنف کی نسبت آریہ لوگ علم روح کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھانڈا بیک بارگی پھوٹ گیا۔ اب بھی اگر ماسٹر صاحب کو وید کے زیادہ تر پردہ ظاہر کرانے کا شوق ہے اور نہیں چاہتے کہ اس کے عیوب عام لوگوں سے چھپے رہیں تو جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں یہی طریق عمدہ ہے کہ اس نہایت دقیق اور لطیف بحث کے بارہ میں الگ الگ رسالے لکھے جائیں یعنی میں الگ ایک رسالہ مستقلہ علم روح کے بارہ میں لکھوں اور ماسٹر صاحب الگ لکھیں اور ہم دونوں فریق جیسا کہ بیان ہوچکا ہے اپنی اپنی الہامی کتابوں کی ہریک دلیل اور دعویٰ کے بیان کرنے میں پابند رہیں اور میں قسمیہ بیان کرتا ہوں کہ میں ماسٹر صاحب کی تحریک پر رسالۃ الروح لکھنے کو طیار اور مستعد ہوں مگر انہیں بھیؔ نہیں بناتا کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے۔ پس ذرّہ آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہیئے کہ ایک کام کے کرنے سے عاجز ہونا اور بات ہے لیکن باوجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اور بات ہے۔ ہاں اس طرح پروہ