نظرؔ سے چھپے ہوئے ہیں تب تک تم اس چیز کے بنانے پر قادر نہیں ہوسکتے سو ہندوؤں کا پرمیشر جو روحوں کو بنا نہیں سکتا تو اس عجز اور ناتوانی کی درحقیقت یہی وجہ ہے کہ وہ علم کیفیت ارواح اور ان کے خواص سے بالکل بے بہرہ ہے۔ * سو جبکہ ہندوؤں کا پرمیشر علم روح سے آپ ہی بے بہرہ ہے تو پھر وہ دوسروں کو روح کا علم کیا سکھائے گا۔ اوخویشتن گم است کرا رہبری کند۔ پس اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ وہ الزام عدم علم روح جو محض عناد کی راہ سے ماسٹر صاحب اسلام پر اور قرآن شریف پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں وہ درحقیقت ہندوؤں کے پرمیشر اور اس کے وید پر عائد حال ہوتا ہے بلکہ خود وید نے ضمنی طور پر اس الزام کو اپنے مصنف کے ذمہ مان لیا ہے۔ کیونکہ وید میں صاف اس بات کا اقرار پایا جاتا ہے کہ اس کا فرضی پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے سے بکلّی عاجز اور مجبور ہے پس جبکہ خود وید کے اقرار سے روح غیر مخلوق ہوئی شاید کسی دل کو اس جگہ یہ وسوسہ پکڑے کہ اگر کسی شے پر پورا پورا علمی احاطہ ہونے سے وہ شے مخلوق ہوجاتی ہے تو علم حق سبحانہ تعالیٰ جو اپنی ذات سے متعلق ہے وہ بھی بہرحال کامل ہے تو کیا خدائے تعالیٰ اپنی ذات کا آپ خالق ہے یا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے اس میں اعتراض کے پہلے ٹکڑے کا تو یہ جواب ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے وجود کا آپ خالق ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو اور ظاہر ہے کہ کوئی شے اپنے وجود سے پہلے موجود نہیں ہوسکتی ورنہ تقدّم الشئے علٰی نفسہٖ لازم آتا ہے بلکہ خدائے تعالیٰ جو اپنی ذات کا علم کامل رکھتا ہے تو اس جگہ عالم اور علم اور معلوم ایک ہی شے ہے جس میں علیحدگی اور دوئی کی گنجائش نہیں تو پھر اس جگہ وہ الگ چیز کون سی ہے جس کو مخلوق ٹھہرایا جائے سو ذاتی علم خدائے تعالیٰ کا جو اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے