پر بڑؔ ا صدمہ پہنچے گا۔ یاں تک کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا اور نیز اس کے وجود پر بھی کوئی عقلی دلیل قائم نہیں ہوسکے گی۔ میں اس کا یہ جواب دیتا ہوں کہ مرزا صاحب خدا کی خدائی قائم رکھنے کے لئے ان لوگوں کو شاہد مقرر کرتے ہیں جو خواص روح سے واقفیت رکھتے ہوں مگر اسلام میں تو روح کے خواص خدا نے ظاہر ہی نہیں کئے جیسا کہ میں اوپر بیان کرچکا ہوں پھر ان کو اس کی کیا خبر ہے۔ اقول۔ اے لالہ صاحب اگر قرآن شریف نے روح کے خواص بیان نہیں کئے تو پھر کس نے کئے۔ وید تو صرف اتنا ہی بول کرچپ ہوگیا کہ میرے مصنف کا روحوں پر کچھ دعویٰ نہیں اور روح غیر مخلوق اور خودبخود ہونے میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں لیکن قرآن شریف کے نازل کرنیو الے نے روحوں کو اپنی ملکیت ٹھہرائی اور ان کی مخلوق اور بندہ ہونے کی نسبت دعویٰ کیا اور پچاس سے زیادہ عقلی دلیلوں کے ساتھ آپ ثابت کیا کہ تمام بنی آدم اور دوسرے حیوانوں کی روحیں مخلوق اور بندہ خدا ہیں اور پھر کھول کر مفصل طور پر سنایا کہ کیا کیا طاقتیں اور استعدادیں اور خاصیتیں ان میں رکھی گئی ہیں۔ یہ قرآن شریف ہی نے نہایت باریک صداقت بیان کی ہے کہ جو کچھ متفرق طور پر عالم علوی و سفلی میں خواص عجیبہ پائے جاتے ہیں وہ سب انسانی روح کے وجود میں جمع ہیں لیکن وید کے رو سے تو روح کچھ چیز ہی نہیں اور اس کے خواص بھی ایسے ناکارہ ہیں کہ جن کا عدم وجود مساوی ہے چنانچہ اس بات کا خود آپ کو اقرار ہے اور آگے چل کر ابھی وہ عبارت ناظرین پڑھ لیں گے۔ اب فرمائیے کہ جس حالت میں آپ وید ہی اقرار کرتا ہے کہ ارواح غیر مخلوق ہیں تو پھر وید کے مصنف کو جو اُن سے بالکل بے تعلق ہے ان کی اندرونی حقیقت کیا معلوم ہوگی یہ بات تو ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ بنانے والے کو جیسی اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیز کی خبر ہوتی ہے دوسرے کو جو اس کے بنانے والا نہیں اور بالکل بے تعلق ہے ہرگز ایسی خبر نہیں ہوسکتی یہ صداقت نہایت ہی صاف اور روشن ہے اور جب تک کوئی