اعتقادؔ ہے اور جب لالہ مرلی دھر صاحب اس اعتراض کا جواب لکھنے بیٹھے تو وہ چند ہندو صاحب اٹھ کر چلے گئے کہ ہم ہرگز ایسا بیہودہ جواب جس میں پرمیشر کی نندیا یعنی توہین ہے سننا نہیں چاہتے۔ ایسا ہی ایک صاحب نے میرے پاس بیان کیا کہ امرتسر کے مقام میں کوئی آریہ صاحب کسی جگہ بازار میں بکھیان کے طور پر یہ ذکر کررہے تھے کہ پرمیشر کا پرمیشر پن صرف جوڑنے جاڑنے تک ختم ہے اور اس سے آگے اسے کچھ طاقت نہیں اس پر کسی دوسرے ہندو نے کچھ بحث کرنا شروع کیا تب وہ لالہ صاحب بات کرتے کرتے گرم ہوکر کہنے لگے کہ ویدوں میں صاف لکھا ہے کہ جیو پرکرتی انادی یعنی روح و مادہ خودبخود قدیم سے چلے آتے ہیں جن کو کسی نے پیدا نہیں کیا یہ بات سنتے ہی اس تسلیمؔ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ایک بے تعلق شخص جو فرضی طور پر پرمیشر کے نام سے موسوم ہے روح کی حقیقت سے کچھ اطلاع رکھتا ہے اور اس کا علم اس کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کی نسبت پورا پورا علم رکھتا ہے تو البتہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اور اگر قادر نہیں ہوسکتا تو اس کے علم میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص ہوتا ہے اور اگر پورا علم نہ ہو تو قطع نظر بنانے سے متشابہ چیزوں میں باہم امتیاز کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ سو اگر خدائے تعالیٰ خالق الاشیاء نہیں تو اس میں صرف یہی نقص نہیں ہے کہ اس صورت میں وہ ناقص العلم ٹھہرا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ کروڑہا روحوں کے امتیاز اور تمیز اور شناخت میں روزبروز دھوکے بھی کھایا کرے اور بسا اوقات زید کی روح کو بکر کی روح سمجھ بیٹھے کیونکہ ادھورے علم کو ایسے دھوکے ضرور لگ جایا کرتے ہیں اور اگر کہو کہ نہیں لگتے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہیئے۔ منہ۔