کےؔ موافق ہے کہ ہریک پاک دل آدمی بلا تردّد اس کے شہادت اپنے دل میں پاتا ہے اور خود ہندو لوگ بھی ہرگز پسند نہیں کرتے کہ ان کا پرمیشر ایسے نقصانوں میں مبتلا ہو مجھے یاد ہے کہ ہوشیارپور کے بحث میں جب میں نے لوگوں کو سنایا کہ آریہ سماج والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ ان کا پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے سے عاجز ہے تو کئی معزز ہندو جو میرے پاس بیٹھے تھے وہ یہ سن کر توبہ توبہ کرنے لگ گئے کہ یہ کیسا خراب تو اؔ سے کیا ہوگا بلکہ محدود چیزوں میں سے وہ بھی ایک چیز ہوگی جس کا کوئی اور محدد تلاش کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ جو چیز غیر مخلوق فرض کی جائے اس کی نسبت یہ تو ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کو اس چیز کا علم تام جو اس سے الگ اور غیر مخلوق اور قدیم ہے کسی طور سے نہیں ہوسکتا اور باایں ہمہ اس چیز کے نفس وجود پر نظر ڈالنے سے اس قدر بھی لازم نہیں آتا کہ خواہ نخواہ کسی درجہ کا ناقص علم بھی اس کے بارہ میں خدائے تعالیٰ کو حاصل ہو اور کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں حاصل ہو ہاں جو چیز ممکن اور حادث اور مسبوق بعدم ذاتی ہے وہ ضرور ہے کہ خدائے تعالیٰ کو معلوم ہو اور علم الٰہی سے باہر نہ ہو کیونکہ جو چیز نامعلوم ہے عطائے وجود اس کے لئے ممکن نہیں پس علم ممکنات قبل وجود ممکنات خدائے تعالیٰ کے لئے ہونا ضروری ہے اور اس سے بالضرور ثابت ہے کہ ممکنات باسرہا معلومات الٰہیہ میں داخل ہیں لیکن جس چیز کو ممکن اور حادث اور مسبوق بعدم ذاتی تسلیم نہ کیا جائے اور ذات علت العلل کا اس کو معلول اور محاط نہ ٹھہرایا جائے، اس پر کوئی برہان عقلی قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں وہ علم الٰہی سے باہر نہیں۔ مثلاً اگر روح کو مخلوق اور حادث تسلیم نہ کیا جائے تو اس بات کے