ہندؔ و کو بھی جو بمقابل اس آریہ کے بات کررہا تھا ایسا جوش آگیا کہ بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا کہ اگر پرمیشر ایسا ہی عاجز ہے تو وہ پھر تیری ایسی تیسی کا پرمیشر ہے چنانچہ اس بات پر ان دونوں میں ہاتھا پائی اور دست بگریباں ہونے کی نوبت پہنچ چلی تھی مگر لوگوں نے درمیان میں ہوکر ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا پس ان عام نفرتوں سے ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے کہ اگر وہ اپنے تعصبات کو الگ کرکے سوچے تو وہ اس صاف اور بدیہی اور کھلی کھلی سچائی تک نہ پہنچ سکے کہ خدائے تعالیٰ کو اگر اس کی خوبیوں اور قدرتوں سے الگ کیا جائے تو پھر خود اس کو اپنی خدائی سے الگ ہونا پڑتا ہے کیا بجز اس کے کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک وجود کا موجد ہے کوئی اور بھی بات چھپی ہوئی ہے جس کے رو سے خدا کو خدا کہا جاتا ہے۔ قولہ۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ارواح کے غیر مخلوق اور خودبخود ماننے میں دوسری قباحت یہ ہے کہ ایسا اعتقاد خدائے تعالیٰ کو خدائی سے جواب دے رہا ہے۔ کیونکہ جو لوگ علم نفس اور خواص ارواح سے واقف ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر روحوں میں عجائب و غرائب خواص بھرے ہوئے ہیں وہ صرف جوڑنے جاڑنے سے پیدا نہیں ہوسکتے۔ مثلاً روحوں میں ایک کشفی قوت ہے جس سے وہ پوشیدہ باتوں کو بعد مجاہدات باذنہ ٖ تعالیٰ دریافت کرسکتے ہیں اور ایک قوت ان میں عقلی ہے جس سے وہ امور عقلیہ کو معلوم کرلیتے ہیں ایسا ہی ایک قوت محبت بھی ان میں ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اگر ان تمام قوتوں کو خودبخود بلا ایجاد کسی موجد کے مان لیا جائے تو پرمیشر کی اس میں بڑی ہتک عزت ہے گویا یہ کہنا پڑے گا کہ جو عمدہ اور اعلیٰ کام تھے وہ تو خودبخود ہیں اور جو ادنیٰ اور ناقص کام تھا وہ پرمیشر کے ہاتھ سے ہوا اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو خودبخود عجائب کام پائے جاتے ہیں وہ پرمیشر کے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہیں یہاں تک کہ پرمیشر بھی ان سے حیران ہے غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی