ایسےؔ ویدوں پر کسی منصف مزاج کا ایمان نہیں رہ سکتا بلکہ کون آدمی ایسا دل کا اندھا ہے جس کو یہ موٹی بات بھی سمجھ میں نہ آسکے کہ جس پرمیشر کو پیدا کرنا بھی نہیں آتا اور یوں ہی جائیداد مستعار سے کام چلارہا ہے وہ کس بات کا پرمیشر ہے اور جس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ اگر روحیں اور مواد نہ ہوں تو پھر اس کا سب پرمیشر پن طاق پر رکھا رہ جائے ایسے نالائق کو کون پرمیشر کہہ سکتا ہے۔ یہ بات ایسی صاف صاف اور انسان کے فطرتی تقاضا
ایک ؔ ہو اور دوسری سب چیزیں کیا ارواح اور کیا اجسام اس کی لگائی ہوئی قیدوں میں مقید اور اس کے ہاتھ کے بندوں سے بندھے ہوئے اور اس کی مقرر کردہ حدوں میں محدود ہوں اور وہ ہرچیز پر محیط ہو اور دوسری سب چیزیں اس کی ربوبیت کے نیچے احاطہ کی گئی ہوں اور کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے ہاتھ سے نہ نکلی ہو اور اس کی ربوبیت کا اس پر احاطہ نہ ہو یا اس کے سہارے سے وہ چیز قائم نہ ہو غرض اگر ایسی صورت ہو تب خدائے تعالیٰ کا تعلق تام جو علم تام کے لئے شرط ہے اپنے معلومات سے ہوگا اسی تعلق تام کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن شریف میں ارشاد فرمایا جیسے وہ فرماتا ہے
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ
یعنی ہم انسان کی جان سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ تر نزدیک ہیں اور ایسا ہی اس نے قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ یعنی حقیقی حیات اسی کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اس کے ساتھ زندہ ہیں یعنی درحقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ وہ قدیم سے الگ کا الگ چلا آتا ہے اور اس کی ربوبیت کا کسی چیز پر احاطہ نہیں اور کوئی چیز اس سے ظہور پذیر نہیں ہوئی تو اس صورت میں علم کائنات