ہیں ؔ جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی اور وہ تمام عالمین کا رب اور پیدا کنندہ ہے پس اسی آیت شریفہ کے مطابق نانک صاحب کا شبد ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ جو بزرگی اور عظمت اور قدرت خدائے تعالیٰ کو چاہئے وہ سب اسے حاصل ہے۔ اے نانک جو اس بات کو جانتا ہے وہی صادق ہے۔ افسوس اس بات کو وید کیوں نہیں جانتا آریہ لوگ کیوں نہیں جانتے دیانند صاحب کیوں جانے بغیر کوچ کرگئے۔ یہ ظاہر ہے کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشنا ایک کمال ہے جو بڑی تعریف کے لائق ہے اور خدا وہ ہونا چاہئے جس میں سب کمالات اور سب تعریف کی باتیں پائی جائیں مگر وید کے پرمیشر پر یہ کیا مصیبت نازل ہوئی کہ وہ اس بھاری درجہ کے کمال سے کہ جو تمام کارخانہ خدائی کی کنجی ہے بے نصیب رہ گیا۔ دیکھو اے کیسوں والے آریو! جو نانک صاحب کے چیلہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو کہ نانک صاحب قرآنی آیت کی تصدیق کرکے کہتے ہیں کہ صادق وہی ہے کہ جو ان سب بزرگیوں اور تعریفوں کا قائل ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے کمال تام کے لئے مطلوب ہیں ورنہ جھوٹا اور دروغگو ہے۔ سو تم اب تو وید کا پیچھا چھوڑو کہ تمہارے گورو صاحب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں اور اپنے شبد تمہیں سنارہے ہیں اور پھر دیکھو کہ وہ مخالفوں پر ناراض ہوکر آگے کیا فرماتے ہیں۔ جے کو آکھے بول بگاڑ۔ تا لکھی سر گواراں گوار۔ یعنی اگر کوئی یہ بات تسلیم نہ کرے اور اس کا مخالف کچھُ منہ پر لاوے تو اس کو جاہلوں کا سردار لکھنا چاہئے۔ اے نانک صاحب آپ کہاں اور کدھر ہو اب تو آپ ہی کے چیلے آریہ سماج میں بیٹھ کر بول بگاڑ رہے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ وہ تو وید کی شرتیوں کو سچ مچ درست سمجھ کر خدائے تعالیٰ کا خالق اور ربّ العالمین ہونا غیرممکن سمجھتے ہیں اور اگر کسی کے منہ سے بھولے سے یہ نکل بھی جائے کہ میری روح کا رب اور پیدا کنندہ پرمیشر ہے تو اس کو مہان پاپی خیال کرتے ہیں اور اپنے پرمیشر کو صرف اس قدر