علم ؔ نہیں اور یا شاید کچھ ہے تو ایک ناقص اور ناتمام سا علم ہے جیسے ایک موتیا بند والے کو جس کی آنکھوں پر نزول الماء اتر آیا ہو کچھ کچھ اوّل دھندلا سا نظر آتا ہے۔*اور پھر آخرکار پورا پورا اندھا ہوجاتا ہے پس صاف ظاہر ہے کہ ایسی خراب تعلیم کو جس کے ایسے ایسے خراب نتائج ہیں کسی صاف دل ہندو کی روح بھی قبول نہیں کرسکتی بلکہ پنڈت دیانند کے دل نے بھی اس کو قبول نہیں کیا لالہ شرم پت ایک آریہ اسی جگہ قادیان کے یہ اؔ یک نہایت باریک صداقت ہے کہ علم باری تعالیٰ جس کی کاملیت کی وجہ سے وہ ذرہ ذرہ کے ظاہر و باطن پر اطلاع رکھتا ہے کیونکر اور کس طور سے ہے اگرچہ اس کی اصل کیفیت پر کوئی عقل محیط نہیں ہوسکتی مگر پھر بھی اتنا کہنا سراسر سچائی پر مبنی ہے کہ وہ تمام علم کے قسموں میں سے جو ذہن میں آسکتے ہیں اشدوا قویٰ واتم و اکمل قسم ہے۔ جب ہم اپنے حصول علم کے طریقوں کو دیکھتے ہیں اور اس کے اقسام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنے سب معمولی علموں میں سے بڑا یقینی اور قطعی وہی علم معلوم ہوتا ہے جو ہم کو اپنی ہستی کی نسبت ہے کیونکہ ہم اور ایسا ہی ہر ایک انسان کسی حالت میں اپنی ہستی کو فراموش نہیں کرسکتا اور نہ اس میں کوئی شک کرسکتا ہے سو جہاں تک ہماری عقل کی رسائی ہے ہم اس قسم کے علم کو اشد و اقویٰ و اتم و اکمل پاتے ہیں اور یہ بات ہم سراسر خدائے تعالیٰ کی ذات کامل سے بعید دیکھتے ہیں کہ جو اس درجہ اور اس قسم کے علم سے اس کا علم اپنے بندوں کے بارہ میں کمتر ہو کیونکہ یہ بڑے نقص کی بات ہے کہ جو اعلیٰ قسم علم کی ذہن میں آسکتی ہے وہ خدائے تعالیٰ میں نہ پائی جائے اور اعتراض ہوسکتا ہے کہ کس وجہ سے خدائے تعالیٰ کا علم اعلیٰ درجہ کے علم سے متنزل رہا آیا اس کے اپنے ہی ارادہ سے یا کسی قاسر کے قسر سے اگر کہو کہ اس کے