خاصؔ نصیحت کرتے ہیں کہ تمہارے گرو صاحب نے جابجا وید سے مخالفت کی ہے اور جہاں تک ان کی علمی حیثیت تھی انہوں نے دین اسلام کے عقائد کو پسند کیا ہے بلکہ ایک صاحب نرائن سنگھ نام گرنتھ خوان واعظ نے ایک سوسے زیادہ آدمیوں کے مجمع میں ہمارے روبرو بیان کیا کہ وہ بعض اوقات اعمال عبادت بھی اسلام کے طور پر بجالاتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ درپردہ حق کے قبول کرنے کے لئے بہت کچھ تیار ہوگئے تھے۔ وہ اپنے گرنتھ میں فرماتے ہیں کہ جو ہمیشہ خودبخود بغیر کسی کے پیدا کرنے کے چلا آیا ہے وہی پرمیشر ہے جیسے ان کا یہ شبد ہے۔ ’’تہا پیا نہ جا کیتا نہ ہو۔ آپے آپ نرنجن سو‘‘۔ یعنی جو بغیر کسی کے پیدا کرنے کے خودبخود قدیم سے چلا آیا ہے وہی خدا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر روحوں کو قدیم اور خودبخود مانا جائے تو اس تعریف کے رو سے ان سب روحوں کا خدا ہونا لازم آتا ہے تو پھر یہ پرمیشر کی کیا تعریف ہوئی جس میں سارا جہان داخل ہے۔ اور اگر ہم اس تعریف کو غلط اور خلاف عقائد ہنود سمجھیں اور یہ خیال کریں کہ نانک صاحب نے بوجہ نہ ہونے علم وید کے اپنے پرمیشر کی ایسی تعریف کردی ہے جو صریح وید کے اصولوں کے برخلاف ہے تو اس میں نانک صاحب کی کسر شان ہے کیونکہ وہ اپنے گرنتھ کے کئی مقامات میں صاف صاف لکھتے ہیں کہ میں نے وید پڑھا ہوا ہے اور چاروں ویدوں کی تعلیمیں مجھ سے پوشیدہ نہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ وید تناسخ کو مانتا ہے جس کی بنیاد روحوں کا غیر مخلوق ہونا ہے پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ وید کی تعلیم کو اس جگہ نانک صاحب نے قبول نہیں کیا اور جابجا یہ بھی جتلا دیا کہ میں ویدوں کی تعلیم سے ناواقف نہیں اور نہ بے علم ہوں بلکہ چاروں ویدوں کو میں نے پڑھا اور خوب کنٹھ کیا ہوا ہے سو اتنے بڑے دعویٰ سے نانک صاحب کا وید کے اس اصل الاصول سے دست بردار ہوجانا صاف دلالت کرتا ہے کہ نانک صاحب ویدوں کے اس بھاری عقیدہ سے جو مدار تناسخ ہے اپنی زندگی میں بیزار ہوچکے تھے اور ہادی مطلق نے ان کے دل کو یہ ہدایت کردی تھی کہ یہ تحریر ویدوں