کیؔ زمین کیسی کیسی آبادیوں پر مشتمل ہے اور کیونکر کروڑہا رنگا رنگ کی مخلوقات پردۂ زمین پر آباد ہورہی ہے اور خدائے تعالیٰ نے کیسی ان کو عقل میں فہم میں دنیا میں دین میں آریوں کی نسبت بہت زیادہ ترقیات بخشی ہیں کیا اتنے بڑے جہان کا مالک ایک خسیس اور بخیل آدمی کی طرح ہمیشہ کے لئے ایک خاص ملک تک اپنے فیوض الہامی محدود رکھ سکتا ہے پھر وہ الہام جس پر اس قدر ناز ہے یعنی وید عجیب قسم کا الہام ہے کہ اول سے
اُسے ؔ پیدا کرنے والا ہوگا اس لئے عالم کی چیزوں کے ساتھ اس کا قیاس نہیں کیا جاتا بلکہ وہ تو لایدرک ذات ہے جو تمام عالم کی چیزوں پر نظر ڈالنے کے بعد ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے نہ احاطہ عقلی یا رؤیت کے طور پر سو جو اس طرح لایدرک طور پر مانا گیا ہے اسے کامل برتر از عقل و فہم کا نام خدا ہے سوائے اس کے تمام موجودات کی ایجاد کی نسبت تو وہ اپنے الہام کے ذریعہ سے آپ دعویدار ہوگیا اور پاک ملہموں کی روح میں ہوکر اس نے کلام کیا کہ جو کچھ نظر آتا ہے جو خالی نقصان سے نہیں اُس سب کا موجد میں ہی ہوں جو کامل ہوں اور یہ ملہم لوگ ایسے نادر الوجود نہیں جو صرف چار ہی ہوں اور کوئی پانچواں نہ ہو بلکہ بے شمار ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ الہامات کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور ہریک شخص صراط مستقیم پر قدم مارنے سے جو قانون تحصیل مرضیات الٰہی ہے حسب دائرہ حوصلہ و استعداد اپنے کے الہامات کو پا سکتاہے اور مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مستفیض ہوسکتا ہے غرض جس حالت میں خدائے تعالیٰ بذریعہ اپنے الہام کے قدیم سے انا الخالق کا دعویٰ کرتا چلا آیا ہے اور ہریک روح بوجہ اپنے نقصان ذاتی اور احتیاج ایک ربّ کے جو تدارک اس نقصان کا کرے اپنے نفس میں اس کی ضرورت بھی پاتی ہے۔ تو اس صورت میں اس ذات کامل الصفات کا خالق ہونا بدیہی الثبوت ہے لیکن اس خالق حقیقی کے