کہؔ بغیر دخل مالک الملک کے تمام روحیں اور ذرّہ ذرّہ اجسام کا خودبخود قدیم سے چلا آتا ہے بلکہ وہ تو پورا پورا فیصلہ کرلیں گے یا تو اپنے باپ دادوں کے خیالات کو کسی ٹھکانہ لگا کر ٹھیک ٹھیک دہریہ بن جائیں گے اور یا اگر سعادت مند ہوئے تو ربّ العٰلمین پر ایمان لائیں گے اور اپنی مخلوقیت کا اقرار کرلیں گے مگر دونوں صورتوں میں وید کے پنجہ سے نکل جائیں گے وہ وقت گزر گئے جب لوگ وید کے کہے کہائے سے چاند سورج کی
صفتیںؔ سب صفتوں سے اکمل اور اتم ہیں اور یہ بجائے خود ثابت کیا گیا ہے کہ تمام ایسے وجودوں کے لئے جو محدود اور مقید اور ناقص اور ناتمام ہیں ایک ایسے وجود کی ضرورت ہے جس کو من کل الوجوہ کمالِ تام ہو اور حدود و قیود سے پاک اور برتر ہو۔ پس جبکہ اس کو کامل تام اور غیر متناہی اور غیر محدود اور سب برتروں سے برتر مان لیا گیا اور تمام ناقصوں کا مبدء فیوض اس کو ٹھہرایا گیا تو پھر اُس کی نسبت یہ خیال کرناکہ اس کا بھی کوئی موجد ہونا چاہئے یہ غایت درجہ کی وحشیانہ جہالت اور ُ برے طور کی نادانی ہے کیونکہ اگر وہ کسی اور موجد کا محتاج ہے تو پھر وہ اس صور ت میں نہ کامل رہ سکتا ہے نہ غیر محدود حالانکہ اس کی خدائی کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ اس کو کمال تام حاصل ہو اور اس کی ذات حدود اور قیود سے منزہ اور پاک ہو غرض اس بات کا قائل ہوکر کہ وہ غیر متناہی اور سب طاقتوں سے بڑھ کر اور کامل تام ہے پھر یہ خیال کرنا کہ باایں ہمہ اس کو کسی موجد کی بھی ضرورت ہے گویا نقیضینکو جمع کرلینا ہے کیونکہ جب پہلے ہی اس کی ذات پر ایمان لانے کے وقت صحت ایمان اسی بات پر موقوف ہے کہ اس کو اکمل و اتم اور بے انتہا اور ہریک ضعف اور نقصان سے خالی سمجھا جائے تو پھر یہ خیال کہ اس کا کوئی موجد ہونا چاہئے اس صفت ایمان سے بکلّی انکار اور کنارہ کشی ہے اور نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ