اور ؔ یہ اعتقاد کیا گیا تھا کہ چونکہ ہمگی و تمامی جائیداد پرمیشر کی یہی آریہ دیس ہے اس لئے پرمیشر کو اس اپنی جاگیر سے بڑی محبت ہے اور اس نے ہمیشہ کے لئے آریوں کو ٹھیکہ دے رکھا ہے کہ ہمیشہ میرا کلام تم میں ہی اترے گا سنسکرت میری زبان ہوگی آریہ دیس میرا دیس ہوگا اور وید میرا ہمیشہ کلام ہوگا اَوروں سے مجھے کیا غرض اور کیا واسطہ لیکن اس زمانہ میں ایک دس برس کا بچہ بھی کچھ تھوڑا سا جغرافیہ پڑھ کر معلوم کرسکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اورؔ کسی طرح شناخت ہی نہیں کرسکتے سو درحقیقت اس کا وجود اور چیزوں کے وجود کی طرح معلوم التعین نہیں تا اس کے موجد اور تعین کنندہ کا خیال دل میں گزر سکے بلکہ وہ تمام مصنوعات پر غور کرنے کا ایک ضروری نتیجہ ہے جو اپنی ذات میں خیال اور قیاس اور گمان اور وہم سے بلند تر وبرتر ہے۔ غرض اس کا وجود اور چیزوں کی طرح نہیں بلکہ اس کے وجود سے مراد وہ آخری وجود ہے جو تمام چیزوں پر نظر ڈالنے کے بعد اس کی ضرورت ثابت ہوتی ہے سو جس خاص طور سے اس کا وجود تمام عالم کے اطوار شناخت سے الگ پڑا ہوا ہے وہی طور خاص اس بات کو سمجھا دیتا ہے کہ اس کے لئے موجد کا ہونا ممتنع اور خلاف عقل ہے اور بجز اسی کی ذات کامل اور غنی مطلق و غیر محدود کے اور کسی چیز کو ہم ایسی نہیں دیکھتے جو داغ نقصان اور احتیاج الیٰ الغیر سے خالی ہو اور دوسری طرف ہم اس کی غیر میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کیا ارواح اور کیا اجسام اپنی ذات اور صفات میں طرح طرح کے پُرحکمت خواص اپنے وجود کے اندر رکھتے ہیں اس لئے ہم کو ایسے مصنوعات پر نظر ڈال کر بضرورت ماننا پڑتا ہے کہ کسی صانع قدیم و حکیم و قادر کامل کے ہاتھ سے یہ سب چیزیں نکلی ہیں لیکن خدائے تعالیٰ کی نسبت جو اپنی ذات میں کامل اور احتیاج غیر سے منزہ اور غیر محدود اور غیر متناہی طاقتوں والا ہے یہ خیال پیدا نہیں ہوتے کیونکہ غیر متناہی سے بڑھ کر اور کون ہوگا جو