میں ؔ یکجائی طور پر پائے جاتے ہیں پس صغریٰ اس شکل کا نہایت بین الثبوت ہے۔ ثبوت کبریٰ کا یعنی اس قضیہ کا جو کل ایسی چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جن میں عجائب قدرت و حکمت پائے جائیں ان کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے اس طرح پر ہے کہ اگر بعض چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جو عجائب قدرت و حکمت سے بھری ہوئی ہیں ایسی بھی ہوں جن کا کوئی موجد ہونا ضروری نہیں تو پھر کسی چیز کو کسی موجد کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اس بات کی صحت پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کہ ہم ایسی چند چیزوں میں سے کہ اپنی وجوہ احتیاج موجد میں بکلّی ہم رنگ اور مساوی ہیں بعض چیزوں کو بلا دلیل مستغنی عن الموجد قرار دے دیں اور دوسری بعض چیزوں کو بلا دلیل اپنے وجود میں موجد کی محتاج سمجھ لیں بلکہ ہم پر لازم ہوگا کہ اگر عالم کی چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی نسبت بھی یہ حکم دیں کہ وہ بوجہ پرحکمت کاموں کے جو اس کے وجود میں پائے جاتے ہیں کسی موجد کی محتاج ہے تو یہی حکم اس کی باقی ہم شکل چیزوں کی نسبت بھی جو عالم میں پائی جاتی ہیں صادر کریں ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی پس بالضرورت شکل ہذا کے کبریٰ کا مفہوم بھی سچا ماننا پڑا جس سے صداقت اس نتیجہ کی کھل گئی کہ روحوں کا ایک موجد کامل وقادر و حکیم ہونا ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔ جاننا چاہئے کہ یہ دلیل مخلوقیت ارواح دہریہ کے مقابل پر نہیں بلکہ آریہ سماج والوں کے ملزم اور لاجواب کرنے کے لئے ہے کہ جو عالم کے ہم رنگ وہم خاصیت چیزوں میں سے بعض کو جو صرف جوڑنا جاڑنا ہی ایک صانع قادر و حکیم کا فعل خیال کرتے ہیں اور بعض دیگر کو جو اس فعل سے بڑھ کر قدرت و حکمت الٰہی پر دال ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر سمجھتے ہیں لیکن دہرؔ یہ کے مقابل پر الگ دلائل ہیں جو ہماری کتاب براہین میں اپنے موقع پر مندرج ہیں اس جگہ تو صرف آریہ سماج والوں کو ان کی مونہہ زوری پر متنبہ کرنا ہے۔* کہ وہ کیسے طریقہ مستقیمہ * حاشیہ اس جگہ اگر کوئی آریہ بطور نقض کے یہ عذر پیش کرے کہ خود خدائے تعالیٰ کی ذات