دعووؔ ں کو دلیل کے محل پر استعمال نہ کرے۔ بھلا خیال فرماویں کہ میرے اعتراض کے جواب میں جو آپ نے لکھا ہے کہ گو ارواح و اجزاء صغار اجسام یعنی جیو اور پرکرتی اور ان کے تمام خواص اور تمام کاریگری کی باتیں جو ان میں پائی جاتی ہیں وید کے رو سے سب غیر مخلوق اور انادی ہیں جن کو پرمیشر کا ہاتھ بھی نہیں لگا مگر تاہم فقط جوڑنے جاڑنے سے پرمیشر کا پرمیشر پن ثابت ہوتا ہے یہ کس قسم کی تقریر ہے اگر اس کو قوانین استدلال کی طرف رد کیا جائے تو کون سی شکل صحیح منطقی اس سے پیدا ہوسکتی ہے اگر کچھ یاد ہے تو بھلا پیش تو کریں۔ ماسٹر صاحب آپ کو یہ بات ُ بری نہ لگے آپ مدلل غیر مدلل کی شناخت سے بکلّی بے خبر ہیں آپ کے ُ منہ سے کوئی معقول بات کیا خاک امید رکھیں آپ تو خواہ نخواہ اپنی قوم کو شرمندہ کررہے ہیں لو ہم ہی روحوں کے مخلوق ہونے پر شکل اول جو بدیہی الانتاج ہے بنا کر سناتے ہیں اس پر غور کرو اور اپنے بے جا دعووں سے باز آؤ اور وہ شکل یہ ہے۔ موجودات عالم میں سے روحیں ایسی چیزیں ہیں جن میں ہزارہا عجائب قدرت و حکمت پائے جاتے ہیں اور کل ایسی چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جن میں عجائب قدرت و حکمت پائے جائیں ان کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے نتیجہ یہ نکلا کہ روحوں کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے۔ ثبوت مفہوم صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ موجودات عالم میں سے روحیں ایسی چیزیں ہیں جن میں ہزارہا عجائب قدرت و حکمت پائے جاتے ہیں اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنی یہ کہ روحوں میں کوئی اُعجوبہ حکمت و قدرت کا نہیں پایا جاتا بدیہی البطلان ہے اور دنیا کی ذِی علم قوموں میں سے کوئی قوم بھی اس بات کی قائل نہیں کہ ارواح عجائبات قدرت و صنعت الٰہی سے خالی ہیں بلکہ علم الٰہیات کے جاننے والے اس باریک صداقت تک پہنچ گئے ہیں کہ دنیا کی تمام مخلوقات میں جو خواص متفرقہ ہیں وہ سب روحوں کے وجود