دلائل ؔ منطقیہ سے بے راہ چل رہے ہیں اور وید کی محبت میں ایسے مست و مدہوش ہوگئے کہ خداداد عقل اور فہم کو یک لخت کھو بیٹھے مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اب وید پر چلنے چلانے کا زمانہ نہیں ہے اب ان باتوں پر زور دینے سے کہ ہم قدیم سے خودبخود ہیں ہمارے روحوں اور ہمارے جسمی مادہ کا کوئی ربّ نہیں جلد تر وید پر وبال آئے گا۔ حال کی ذریت ایسی موٹی عقل کی نہیں کہ ان کو ان تعلیموں پر طفل تسلی دے سکیں
بھی ؔ عجائب قدرت و حکمت پر مشتمل ہے تو کیا اس کے لئے بھی کسی موجد کی ضرورت ہے اس کا جواب یہی ہے کہ ہم ابھی شکل اوّل کے دونوں مقدمات میں جن سے مخلوقیت روحوں کی ثابت ہوتی ہے موجودات کے لفظ کو اسی لحاظ سے عالم کے لفظ سے مشروط اور مقیّد کرچکے ہیں یعنی موجودات عالم کا لفظ لکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ دلیل فقط موجودات عالم کے متعلق ہے یعنی ان چیزوں کے متعلق ہے جو عالم میں داخل ہیں لیکن خدائے تعالیٰ عالم سے باہر ہے اور خدائے تعالیٰ کی نسبت ایسا خیال کرنا کہ اس کی ذات میں بھی طرح طرح کی طاقتیں اور قوتیں اور عجائب صفتیں پائی جاتی ہیں اس لئے اس کا بھی کوئی موجد چاہئے۔ یہ خیال انہیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتا ہے جن کو معرفتِ الٰہی سے ایک ذرہ بھی حصہ نہیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کے وجود کی نسبت یہ تو پہلے ہی سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایسا وجود ہے کہ جس کی ذات اور ذاتی طاقتیں اور قوتیں اور کامل صفتیں غیر محدود اور غیر متناہی ہیں جو کسی تحدید اور کسی دائرہ عقل یا قیاسی یا وہمی میں نہیں آسکتیں اور یہ بھی ابتداء ہی سے قبول کیا جاتا ہے کہ اس کا وجود سب وجودوں پر غالب اور سب وجودوں سے افضل اور سب وجودوں سے اول اور اس کی طاقتیں سب طاقتوں سے بڑھ کر ہیں اور اس کی قوتیں سب قوتوں سے زیادہ تر اور اس کی کامل