بنیاد ؔ قرار دی تو پھر باقی کیا رہ گیا اونٹ تو نکلا گیا اب اگر دم باقی رہ گئی ہے تو اس کے اندر جانے میں کون سی مشکلات ہیں ہاں آپ کو اپنے دہریوں بھائیوں سے مل کر موجد حقیقی کے ماننے والوں کے ساتھ بحث کرنی چاہئے اور ان کو بطور مددگار لانا چاہئے اور دیکھا بھی گیا ہے کہ بعض آریہ ناچار ہوکر دہریوں سے مشورہ لیتے ہیں تا کسی طرح خودبخود اور غیر مخلوق ہونے پر کوئی دلیل نکل آوے مگر اے ماسٹر صاحب آپ لوگ ہزار مخلوق ہونے سے کنارہ کش ہوں ہم تو آپ کو بندہ خدا بنا کر چھوڑیں گے آپ کب تک بھاگیں گے اور کدھر بھاگیں گے اور کہاں جائیں گے بھلا اس تقریر سے جو مقولہ متذکرہ بالا میں آپ نے کی ہے کونسا اثر ہمارے اعتراض پر پڑا بجز اس کے کہ آپ اپنے ہی قول سے آپ ہی قائل ہوگئے کہ جن چیزوں میں انتظام اور کاریگری اور تعلقات ضروریہ پائے جاتے ہیں وہ خودبخود نہیں ہوسکتیں پس دیکھو اجزاء لا یتجزی میں جن کو ہندی میں پر کرتی کہتے ہیں خاصیت کشش اتصال پائی جاتی ہے تب ہی تو بجز قسر قاسر کسی جسم کے اجزائے متفرق نہیں ہوسکتے اور کشش اتصال تعلقات ضروریہ کی جڑ ہے۔ کیونکہ اگر جز لا یتجزی یعنی پر کرتی میں قوتِ کششِ اتصال نہ پائی جاتی تو پھر جسم کے اجزاء میں باہمی تعلقات پیدا ہونا اور بعض جزوں کا بعض سے مل جانا اور ملے رہنا ممتنع اور محال ہوتا۔ اور روحوں کے وجود میں جس قدر صنعت صانع اور کاری گری پائی جاتی ہے وہ تو ہم کسی قدر بیان کرچکے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ کسی موقع پر بیان کریں گے اور جیسے خدائے تعالیٰ نے اجزاء لا یتجزی میں کشش اتصال رکھی ہے ایسا ہی روحوں میں قبولیت تعلق جسم کے لئے ایک قوت اور استعداد رکھی ہے یعنی روحوں میں بھی اجسام کی کشش اتصال کی طرح قبولیت تعلق جسم کی ایک قوت پائی جاتی ہے جس سے وہ بلانفرت و کراہت جسم سے ایسے طبعی طور پر تعلق پکڑلیتے ہیں جیسے ایک محب اپنے محبوب سے یا ایک عاشق اپنے معشوق سے تعلق پکڑلیتا ہے جس تعلق کا صدمہ موت سے چھوڑنا اور مفارقت اختیار کرنا ان پر