کوؔ ئی دوسرا بناسکتا ہے تو کروڑہا اور بے شمار روحیں اور بے شمار جسم کے ٹکڑے کیونکر خودبخود سمجھے جائیں آپ سوچ کر دیکھ لیں کہ آپ نے اتنے ورق تو سیاہ کئے مگر ان چیزوں کے خودبخود ہونے پر دلیل کون سی پیش کی اور جب کہ آپ نے کل پُرحکمت وجودوں کا جو عالم میں پائے جاتے ہیں خودبخود بغیر ایجاد پرمیشر کے ہونا بغیر دلیل کے مان لیا ہے تو پھر یہی فتویٰ تالیف اجسام یعنے جوڑنے جاڑنے پر کیوں نہیں لگایا۔ بے شک واقعی امر تو یہی ہے اور کسی عقل مند کا دل اس بات سے انکار کرنے کی طرف مائل نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کام بے نظیر ہیں مگر آپ لوگ کب انہیں بے نظیر سمجھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے وید پر یہ بات سیاہ سے سیاہ دھبہ سے بڑھ کر ہے کہ جو ذات کل فیضوں کا مبدء ہونا چاہیئے اس کو ایسا گھٹاتے گھٹاتے نکما کردیا ہے کہ بس خاک میں ملا دیا۔ سوچو اے آریہ صاحبو سوچو! کیا آپ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہیں کہ جو ذرّہ دل کو آلائش تعصب سے پاک کرکے سوچے۔ اس سوال پر غور کرو کہ وہ چیز جسے ربوبیت کہتے ہیں وہ کیا ہے؟ اس بات کو ذرہ دل لگا کر جانچو کہ خدا کس بات کا نام ہے؟ قوم کیا ہے برادری کیا چیز ہے کوئی کسی کا نہیں آؤ خدا سے ڈرو اور ایسی باتیں ُ منہ پر مت لاؤ جن میں اس بے انتہا طاقتوں والے کی توہین ہے کیا تمہیں یہ بات کہتے کچھ بھی شرم نہیں آتی کہ ہماری روحیں بھی بلکہ ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ پرمیشر کی طرح خودبخود ہی حق ظاہر ہوگیا اور مخلوق ہونے کی تم پر ڈگری ہوچکی اب خدا کا بندہ ہونے سے مت بھاگو۔
قولہ۔ کوئی دہریہ یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ جوڑنا جاڑنا پرمیشر کی طرف سے نہیں بلکہ اتفاقی طور سے ہوگیا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اتفاقی طور پر خودبخود باہم مل جانا پر کرتی کا سبھاؤ نہیں ہے کیونکہ اس میں حرکت کرنے کی طاقت نہیں۔ رہا جیو یہ اگر اتفاقی طور پر مل سکے تو کہیں اس کا نمونہ ظاہر ہونا واجب ہے اور اگر لوگ موجودہ طریقہ ہی اپنا ثبوت پیش کریں (یعنی یہ کہیں کہ پرمیشر کو جوڑتے جاڑتے کس نے دیکھا ہے جو کچھ ہورہا ہے طبعی