عصبہؔ مجوفہ وغیرہ کی شکل پر متشکل ہوگئے جن کو آریہ لوگ قدیم اور انادی اور پرمیشر کے دست قدرت سے بالاتر خیال کرتے ہیں چنانچہ اس بات کو پنڈت دیانند صاحب بھی اپنے وید بھاش میں مانتے ہیں اور اپنا اعتقاد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ نیستی سے ہستی کبھی نہیں ہوتی جو ہے وہی ظہور میں آتا ہے اور جو نہیں وہ کبھی ظہور میں نہیں آسکتا۔ پس اس جگہ انہوں نے آپ ہی تسلیم کرلیا ہے کہ ترکیب اشیاء یعنے جوڑنے جاڑنے میں کوئی ایسی نئی بات پیدا نہیں ہوتی جو پہلے نیست محض ہو اور پھر نیستی سے اس کی ہستی ہوگئی ہو بلکہ وہی خواص قدیمہ ظہور میں آتے ہیں کہ جو اول میں سے ہی الگ الگ جزوں میں مخفی طور پر موجود تھے اب جب کہ یہ ثابت ہوگیا کہ ترکیب اشیاء میں انہیں خواص کا ظہور و بروز ہوتا ہے جو پہلے ہی سے الگ الگ ہونے کی حالت میں ان اشیاء میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں تو اس صورت میں ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر مثلاً پرمیشر نے انسان کے جسم کی آنکھ بنائی اور جو اجزاء کارآمد آنکھ کے الگ الگ موجود تھے انہیں ایک جگہ اکٹھا کرکے کام لیا تو ایسے بنانے میں اس کی کون سی بڑی بھاری خوبی ثابت ہوگئی کیونکہ دراصل سب اجزاء جن سے آنکھ بن سکتی تھی پہلے ہی سے موجود تھے۔ ہاں ظہور اس خاصیت کا اس خاص ترکیب اور وضع پر موقوف تھا سو پرمیشر نے اپنی علمی وسعت سے اس خاص وضع وشکل پر اطلاع پاکر اس خاصۂ قدیم کو جو بغیر حاجت پرمیشر کے پایا جاتا تھا ظاہر کرکے دکھلا دیا پس اگر پرمیشر کا اتنا ہی منصب اور اسی قدر اس میں لیاقت ہے کہ وہ خواص اشیاء پر وسیع اطلاع ہونے کی وجہ سے تراکیب مختلفہ میں ان خواص کو ظاہر کرتا رہتا ہے تو اس میں اور دوسرے صناعوں میں کون سا بڑا فرق رہا صرف اتنا ہوا کہ وہ کچھ ہنر میں زیادہ اور دوسرے اس کے چھوٹے بھائی ہوئے۔ قولہ۔ رہا مادہ سو وہ چیز ہے جس کو ہندی میں جڑپدارتھ کہتے ہیں جس میں ارادہ یا طاقت ہلنے جلنے کی نہیں غرض دونوں چیزیں (روح و مادہ) جو دنیا میں موجودہ ہیں جن کو