صنعتیںؔ ایجاد کی ہیں وہ سیاحوں اور واقف کاروں سے پوشیدہ نہیں ہے اب ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر ہندوؤں کے پرمیشر میں بھی صرف اتنی ہی خوبی ہے کہ مادی و غیرمادی اشیاء کے خواص جو اسے معلوم ہیں انہیں میں دست اندازی کرکے اور بعض اشیاء کو بعض سے جوڑ کر صنعتیں نکالتا ہے تو یہ کچھ بڑی بات نہیں اور اس صورت میں تو ہمیں اس کی ساری خدائی کی حقیقت معلوم ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ اس میں اور انسان میں صرف علم کی کمی بیشی کا کچھ فرق ہے اور ممکن ہوگا کہ انسان بھی اپنے معلومات میں ترقی کرتا کرتا کسی وقت پرمیشر ہی بن جاوے۔ جس حالت میں شہد کی مکھی میں بھی یہ ہنر پایا جاتا ہے کہ وہ ایسی عقل مندی سے شہد بناتی ہے کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنانے پر قادر نہیں پھر اگر سےؔ چند عرصہ تک باجا بجتا رہتا ہے ایسا ہی صدہا اور کلیں چھوٹی بڑی ہیں جو حال کے صناعوں نے طیار کری ہیں اور بمبئی اور کلکتہ اور اکثر دیگر مقامات میں سوداگروں کی دکان پر مل سکتی ہیں اور یورپ کے اکثر کاریگر دانتوں کی جگہ دانت اور آنکھ کی پتلی کی جگہ آنکھ کی پتلی اور ٹانگوں کی جگہ ٹانگ اور بالوں کی جگہ مصنوعی بال لگا کر گزارہ چلا دیتے ہیں۔ بعض حکیموں نے چاند بناکر اور چڑھا کر محدود حد تک اس کی روشنی سے کام لیا ہے بعض نے پرند بناکر کنجی دینے سے ایک حد تک انہیں اڑا کر دکھلا دیا ہے اور بعض نے مینہہ برسنے کی ترکیب نکالی اور کسی حد کے اندر اندر مینہہ برسا دیا ایسا ہی قسم قسم کے پھول اور پھل اور موتی و دیگر جواہرات ایسے بنائے گئے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کردیا ہے اور ابھی انسان کی صانعیت کی کچھ انتہا نہیں کیونکہ وہ ترقیات غیر محدود کے لئے پیدا کیا گیا ہے جن کی تحصیل کے لئے وہ فطرتاً مشغول ہے۔ منہ۔