کیؔ ضرورت ثابت ہوتی ہے لیکن جب آپ کی خدمت میں یہ عرض کیا جاتا ہے کہ وہی بے نظیری اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہونا ان عجائبات قدرت میں بھی پایا جاتا ہے جو روحوں میں ہیں تو تب آپ اس طرف سے منہ پھیر لیتے ہیں اب کوئی آپ کی اس سمجھ پر رووے یا ہنسے کہ آپ دو چیزوں کے مشترک استحقاق کو دیکھ کر ایک چیز کو پرمیشر کی مصنوعیت سے باہر رکھ لیتے ہیں اور دوسری چیز کو جو ایک ادنیٰ اور عارضی کام ہے اپنے پرمیشر پر تھاپتے ہیں مگر ایسا کبھی نہیں ہوسکتا اور کسی طور کی حجت آپ کے اس مطلب کی تائید نہیں کرسکتی کہ تمام عالم میں سے آدھا دھڑ خودبخود اور آدھا پرمیشر کا محتاج ہے۔ اور یہ جو میں نے ابھی لکھا ہے کہ اجسام کو جوڑنا جاڑنا ایک ادنیٰ کام ہے یہ میں نے اس لئے لکھا کہ درحقیقت جوڑنے جاڑنے سے کوئی نئی خوبی حاصل نہیں ہوتی بلکہ وہی خواص ارواح و اجسام جو روحوں اور جسموں میں چھپے ہوئے تھے کھلے کھلے طور پر نظر آجاتے ہیں جیسے ایک تصویر کو جب ایک مصفا شیشہ کے اندر رکھا جائے تو نہایت صفائی اور خوبی سے نقوش اس تصویر کے ظاہر ہوجاتے ہیں سو یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ تصویر کو آئینہ میں رکھنے سے خود آئینہ کوئی ایسا نقش اس میں زیادہ کردیتا ہے جو پہلے اس میں موجود نہ تھا بلکہ وہی نقوش جو پہلی تصویر میں موجود تھے اور مصور کے ہاتھ سے نکلے تھے انہیں کو آئینہ نہایت عمدگی اور صفائی سے نمایاں کردیتا ہے سو میں کہتا ہوں کہ اگر اجزاءِ صغار اجسام میں بطور خود وہ کشش اتصال کی خاصیت نہ ہوتی جس سے وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں تو آپ کا پرمیشر جو خالق اشیاء و خواص اشیاء نہیں ہے کیا کرسکتا تھا اور اگر آفتاب کے باریک ٹکڑوں میں جو بقول آپ کے خودبخود ہیں اپنی ذات میں ہی روشن ہونے کی خاصیت نہ پائی جاتی تو کیونکر اور کس قوت سے پرمیشر ان سب کو اکٹھا کرکے نیراعظم بنالیتا۔ سو جاننا چاہئے کہ اگر خدائے تعالیٰ میں ایجادی قدرت نہیں یعنی اس نے تمام چیزوں اور ان کے خواص کو عدم محض سے پیدا نہیں کیا تو صرف بعض بعض ترکیبیں نکال کر خواص موجودہ سابقہ سے کام