نہیںؔ بناسکتا بنانا تو درکنار اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بابت کہ یہ کس طرح بنی لاکھ کاریگروں میں سے ایک لاکھواں حصہ بھی نہیں سمجھ سکتا اگر یہ ایسا حقیر کام ہے جس کو صرف جوڑنا جاڑنا کہا ہے تو مرزا صاحب یا کوئی اور شخص جو دعویٰ رکھتا ہو یا مرزا صاحب کی سمجھ میں بڑا طاقت والا ہو تو بڑی چیزوں سیارات وغیرہ کو تو کیا بناوے گا ایک دانہ گندم یا باجرہ کا ہی بناکر دکھلاوے یا کچھ تھوڑے بہت اس کی کاریگری کے اصول ہی سمجھاوے۔ اقول۔ ہائے اے ماسٹر صاحب آپ کدھر کو کھسک گئے ذرا اول غور کرکے میرے سوال کو تو سمجھا ہوتا سخن فہمی بھی تو آپ ہی پر ختم ہے میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا تھا کہ خدائے قادر مطلق کی مانند کوئی دوسرا شخص بھی کوئی صنعت بناسکتا ہے یا بجز اس کے کوئی صنعت کا کام اس کے کاموں سے مشابہ ہوسکتا ہے یہ اعتقاد تو آپ لوگوں کا ہی ہے جس پر میں نے اعتراض کیا تھا یعنی آپ لوگ ہی تو یہ بات کہتے ہیں کہ جو جو صنعتیں عالم غیب سے ظہور پذیر ہورہی ہیں جن کو دانشمند لوگ کسی ناقص کی طاقت سے برتر سمجھ کر ایک صانع کامل اور قادر اور حکیم اور حیّ قیوم کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تمام صنعت کے کام بزعم آپ لوگوں کے اس خداوند کامل اور قادر کے ہاتھ سے نہیں نکلے بلکہ ان میں سے صرف جوڑنا جاڑنا اس کا کام ہے اور باقی سب حکمت اور صنعت کے کام اور طرح طرح کے خواص عجیبہ جو ارواح اور اجسام کی ذات میں پائے جاتے ہیں وہ سب بقول آپ کے قدیم سے خودبخود چلے آتے ہیں جن کا کوئی موجد اور خالق نہیں اور نہ خالق کی ان کو کچھ حاجت و ضرورت ہے سو آپ کے اسی عقیدہ پر میں معترض ہوا تھا اور اسی وجہ سے میں نے آپ کو جواب لکھنے کی تکلیف دی تھی کہ جس حالت میں آپ نے روحوں کے وجود کو جن میں ایسی عجیب صنعتیں اور خاصیتیں پائی جاتی ہیں جو اجمالی طور پر تمام دنیا کے عجائبات پر مشتمل ہیں خودبخود بغیر حاجت پرمیشر کے مان لیا ہے ایسا ہی آپ نے اجسام کو اور ان کے تمام خواص کو جو ان میں پائے جاتے ہیں خودبخود تسلیم کرلیا ہے تو پھر صرف جوڑنے