اورؔ دوسرے اجرام و اجسام کی شناخت سے اصلی غرض یہ ہے کہ تا ان مصنوعات پر غور کرنے سے صانع حقیقی کی طرف خیال رجوع کرجائے لیکن جس مذہب میں خدائے تعالیٰ کو صانع کامل ہونے سے ہی جواب دیا گیا اگر اس مذہب میں کوئی شخص طبعی اور ہیئت یا دوسرے علوم سے کسی قدر بہرہ بھی حاصل کرلے تو اسے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ برکات قرآنِ شریف میں ہی ہیں کہ اس نے ان تمام علوم طبعی و طبابت وہیئت وغیرہ سے خداشناسی کے لئے خدمت لی ہے سو حقیقت میں یہ علوم مسلمانوں کے کام آتے ہیں نہ آریوں کے جنہوں نے خدا کو ہی خدائی سے جواب دے رکھا ہے۔ اب ہم پھر اصل کلام کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ اب تک ہم نے ماسٹر مرلی دھر صاحب کے قول کی رد میں صرف عوام مسلمانوں کے مقابل پر عوام ہنود کے خیالات علمی کو بغرض مقابلہ و موازنہ پیش کیا ہے لیکن اگر ماسٹر صاحب کا اپنی نکتہ چینی سے یہ مطلب ہے کہ عموماً کل مسلمان علوم طبعی و ہیئت سے بے بہرہ ہیں اور یہ سب علوم ہندوؤں کی وراثت ہے تو اس چھیڑ چھاڑ سے اور بھی ماسٹر صاحب کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔ اہل اسلام وہ قوم ہے جن کو جابجا قرآن میں یہی رغبت دی گئی ہے کہ وہ فکر اور خوض میں مشق کریں اور جو کچھ عجائبات صنعت زمین وآسمان میں بھرے پڑے ہیں ان سے واقفیت حاصل کریں۔ مومنوں کی تعریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِىْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا یعنی مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اورغور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الٰہی ان پر کھلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدایا تو نے ان صنعتوں کو بیکار پیدا نہیں کیا یعنے وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے