ایجادؔ کئے اور بذریعہ رویت تھوڑے ہی دنوں میں اجرام علوی و سفلی کے متعلق وہ صداقتیں معلوم کرلیں کہ جو ہندوؤں بیچاروں کو اپنی قیاسی اٹکلوں سے ہزاروں برسوں میں بھی معلوم نہیں ہوئی تھیں اب آپ نے دیکھا کہ رویت میں کیا کیا برکتیں ہیں انہیں برکتوں کی بنیاد ڈالنے کے لئے خدائے تعالیٰ نے رویت کی ترغیب دی ذرہ سوچ کرکے دیکھ لو کہ اگر اہل یورپ بھی رویت کو ہندوؤں کی طرح ایک ناچیز اور بے سود خیال کرکے اور صرف قیاسی حسابوں پر جو کسی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر لکھے گئے مدار رکھتے تو کیونکر یہ تازہ اور جدید معلومات چاند اور سورج اور نئے نئے ستاروں کی نسبت انہیں معلوم ہوجاتے سو مکرر ہم لکھتے ہیں کہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ رویت میں کیا کیا برکات ہیں اور انجام کار کیا کیا نیک نتائج اس سے نکلتے ہیں۔ ماسوائے اس کے خود یہ خیال کہ اہل اسلام تحصیل علوم طبعی و ہیئت وغیرہ سے بکلی بے بہرہ چلے آتے ہیں ایسا متعصبانہ خیال ہے جس سے اگر ماسٹر صاحب ذرا انصاف پر آویں تو انہیں بہت شرمندہ اور نادم ہوجانا چاہئے ہمیں اس جگہ کچھ ضرورت نہیں کہ بات کو طول دے کر اہل اسلام کے علمی فضائل کا ثبوت دیں بلکہ اس مقام میں ہم صرف ان چند سطروں کا لکھنا مناسب سمجھتے ہیں جو اف جون دیون بورٹ صاحب۱؂ نے اپنی کتاب میں جس کا ترجمہ ہوکر مؤید الاسلام نام رکھا گیا ہے لکھیں ہیں سو وہ یہ ہیں۔ صفحہ ۹۲ سے تا صفحہ ۹۸ عبارت کتاب جان بورٹ صاحب مشم۲؂ صاحب کا قول ہے کہ مُؤرّ خان معتبر کے نزدیک یہ بات قرار پاگئی ہے کہ دسویں صدی میں یورپ غایت درجہ کی جہالت میں پڑا ہوا تھا اور یہ بات یقینی ہے کہ اس زمانہ میں اہل عرب (یعنی اہل اسلام نے) ملک ہسپانیہ اور اٹلی میں بہت سے مدرسے جاری کئے تھے اور ان مدرسوں میں ہزاروں طلباء عیسائی عربی فارسی اور حکمت کی تعلیم پاتے تھے اور پھر ان علوم کو مدارس اسلام سے لاکر عیسائی مدرسوں میں جاری کرتے تھے۔