گائےؔ بننے اور دکھ درد اٹھانے کی اس کو یاد دلادیتا تا وہ پھر کبھی ایسا ُ برا کام نہ کرتے۔ سو جبکہ پرمیشر نے ایسی سخت سزا تو دی مگر کبھی ایک دفعہ ایسا نہ کیا کہ گائے کو زبان گویائی دیتا یا اسے آدمی کی جون میں آنے کے بعد اس پہلی پُرمصیبت جون کی اطلاع کردیتا تو یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اب تک گائے کی جون کا انسداد نہیں ہوا بلکہ اس گناہ کے نامعلوم رہنے کی وجہ سے اس حیوان کی نسل نے ایسی ترقی کی ہے کہ کروڑہا گائیں زمین پر پھیل گئی ہیں۔ اگر پرمیشر سے یہ بدانتظامی ظہور میں نہ آتی تو اس نابکار حیوان کی اس قدر ترقی کیوں ہوتی بلکہ گائیوں کا زمین پر نام و نشان نہ رہتا۔ مگر اب بھی اس منحوس جون کے کاٹنے کے لئے ایک عمدہ تجویز خیال میں گزرتی ہے اگر آریہ صاحبان اس کو پسند کرلیں تو ان کی کوشش سے یہ لائق رحم برہمنی اس منحوس جون سےََ مَخلصی پاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کی تمام گائیوں اور بیلوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کرکے ایک ہی دفعہ کسی تدبیر سے اس جہان فانی سے زاویہ عدم میں بھیجا جاوے اگر پھر بھی ہندوؤں کا پرمیشر کسی برہمنی کو ایسی سخت سزا دینے کی جرأت کرے تو اس کے ہم ذمہ وار ہیں بشرطیکہ کسی اور ملک سے کوئی جوڑہ بیل اور گائے کا جدید طور پر نسل جاری کرنے کے لئے منگوایا نہ جاوے کیونکہ اگر آریہ صاحبان ایسا کریں تو گویا پھر خود ان کی مرضی ہے کہ اس منحوس جون سے کبھی برہمنوں کو نجات نہ ملے۔ غرض ہم نے ایک نسخہ بتا دیا ہے آئندہ اس کا کرنا نہ کرنا آریہ صاحبوں کے اختیار میں ہے۔
اب ذرا عقلمند آریوں کو شرمندہ ہونا چاہئے کہ ان کے وید کی فلاسفی نے کس درجہ کے مجنونانہ خیالات تک ان کو پہنچا دیا ہے کیا وید ودیا کی یہی تعلیم ہے کہ اول ایک حیوان کو بلا دلیل و حجت ایک فاسقہ عورت قرار دینا اور پھر اسی پلید اور نابکار جانور کے دودھ پینے کے لئے رغبت دلانا۔ اے بھائیو آریو خدا تمہیں سمجھ اور ہدایت بخشے تمہیں ذرّہ غیظ اور غضب کو الگ کرکے سوچنا چاہئے اور عالمانہ اعتراض کا عالمانہ جواب دینا چاہئے کہ اگر حقیقت