حکومتؔ میں بہائے گئے تھے اسی طرح ان ظالم سرداروں کا نام و نشان بھی نہ رہا اور آخر ان کے خونوں سے بھی زمین سرخ ہوگئی اور گائے پر بھی جو کچھ بہ غضب الٰہی وارد ہوا اور اب تک ہمیشہ کے لئے وارد ہورہا ہے اس کے بیان کرنے کی تو کچھ حاجت ہی نہیں۔ تادل مردان حق نامد بدرد 228ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد۔ اب دیکھو کہ ایک لایعقل حیوان کو انسان سے بہتر جاننا اور پہلے آپ ہی اس حیوان کو ایک فاسقہ عورت کی بگڑی ہوئی جون قرار دینا اور پھر اس کی ایسی عزت کرنا کہ اس کے ادنیٰ زخم پر ہزارہا انسانوں کے خون کرنے کو تیار ہوجانا یہ کس قسم کی فلاسفی ہے۔ اگر تلاش کرو تو تمام دنیا میں ایسا وحشیانہ جوش ایک حیوان کے لئے کسی قوم میں ہرگز پایا نہیں جائے گا جیسا کہ ہندوؤں کو گائے کے لئے ہے۔ بعض متعصب برہمنوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اصل میں گائے کا جرم تو خفیف ہی تھا مگر پرمیشر نے اس کوکسی مصلحت سے سخت سزا دے دی۔ شاید یہ پردہ پوشی اور پرمیشر کو ظالم ٹھہرانا اس خیال سے ہے کہ ان کے مجنونانہ زعم میں گائے دراصل انہیں کی بہن یعنے برہمنی ہے اور برہمن ویدوں کے رو سے ایک ایسی چیدہ قوم ہے کہ کئی قسم کے گناہ بھی ان کو معاف ہیں اور اگر کوئی شودرہوکر برہمن کی نسبت کوئی ُ برا لفظ کہے تو منوسمرت میں لکھا ہے کہ اس کی زبان چھیدنی چاہئے اور اگر ہندوؤں میں سے بجز برہمن کسی دوسری قوم کا آدمی بے اولاد ہو تو شاستروں کا حکم ہے کہ اپنی عورت کو برہمن کے پاس بھیج دے اور وہ اس سے ہم صحبت ہوکر اس کے حاملہ ہوجانے کا فکر کرے گا۔ ایسا ہی قریب بتیس کے عجیب عجیب حقوق برہمنوں کے ہیں جن کو شاستروں نے کھیوٹ بندوبست کی طرح برہمنوں کے لئے قائم کررکھا ہے چنانچہ منو شاستر اور دوسرے شاستروں کے پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور برہمنوں کا دعویٰ ہے کہ یہ سب باتیں وید سے لی گئیں ہیں اور وید میں درج ہیں اور باوا نانک صاحب تو سب پورانوں اور شاستروں کو وید کی طرح ایشر کرت ہی یعنی خدا کا کلام ہی جانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے گرنتھ میں لکھتے ہیں۔