فریق ؔ مخالف کی تسلی خاطر کے لئے پہلے ہی کسی فاضل برہمو صاحب کے پاس جیسے بابو نوبین چندر رائے صاحب و پنڈت شیونارائن صاحب اگنی ہوتری ہیں بطور امانت جمع کرایا جائے گا اور انہیں اختیار ہوگا کہ اگر وہ اپنی رائے میں دیکھیں کہ حقیقت میں آریہ صاحب نے وید کا مقابلہ کر دکھایا تو خودبخود بغیر اجازت ایں جانب وہ روپیہ اس آریہ صاحب کے حوالہ کردیں۔ لیکن اگر اس مضمون کو پڑھ کر پھر بھی ماسٹر صاحب یا ان کے کوئی دوسرے
کےؔ ذریعہ سے ہرگز ذہن نشین نہیں ہوسکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سنتا ہے نہایت تکبر سے کہے گا کہ یہ سراسر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغگو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور بہ باعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ امور جن کی صداقت پر ہزارہا عارف و راستباز اپنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں۔ اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کردینے کے لئے بفضلہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہوسکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم عقل ہے یعنے جس عالم تک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرار الٰہی پردہ غیب میں دبے پڑے ہیں۔ جن کی عقلمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی۔ ایک فصلی مکھی جو پلید اور ناپاک زخموں پر بیٹھتی ہے اور اکثر گدھے یا بیل وغیرہ جو زخمی اور مجروح ہوں ان کو ستاتی ہے اس کے اس عجیب خاصہ پر کوئی فلسفی دلیل عقلی نہیں بتلا سکتا کہ وہ اکثر برسات میں تکون کے طور پر پیدا ہوجاتی ہے اور اس کی اولاد صرف کیڑے ہوتے ہیں کہ جو ایک ایک